وفاقی آئینی عدالت کا پشاور ہائیکورٹ کو تھری ایم پی او گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روکنے کا حکم

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے جمعرات کو پشاور ہائیکورٹ کو خیبرپختونخوا میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے تحت گرفتاریوں سے متعلق مقدمات سننے سے اگلے احکامات تک روک دیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے صوبائی حکومت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے اور کہا کہ دیگر فریق عدالتی حکم کا جائزہ لے کر اپنی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔
جیو نیوز کے مطابق ہائیکورٹ نے اس سے قبل تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکا تھا اور مختلف اضلاع میں زیر حراست پی ٹی آئی کے 28 کارکنوں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ہائیکورٹ نے گورنر راج کے خلاف گورنر اور اسپیکر سے جواب بھی طلب کیا تھا۔
صوبائی ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ جہاں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کارروائی کر رہی ہو، وہاں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کر سکتی اور آرٹیکل 199 کے تحت اپنا دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ میں آرٹیکل 199 کے تحت روزانہ کئی درخواستیں آتی ہیں، کیا ہائیکورٹ روزانہ آنے والے مقدمات نہیں سنے گی؟
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جواب دہندگان کی طرف سے سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس پیش ہوئے اور حکم امتناع سے پہلے سنے جانے کا مطالبہ کیا۔ چیف جسٹس نے انہیں حکم پڑھ کر اعتراضات داخل کرنے کی ہدایت کی۔
صوبائی حکومت نے چیف سیکرٹری کے ذریعے ہائیکورٹ کے ان فیصلوں کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں جن میں تھری ایم پی او کے تحت حراستیں غیر قانونی قرار دی گئی تھیں اور مزید گرفتاریوں سے روکا گیا تھا۔











