رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° صاف 21° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:05مغرب 17:42عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
متحدہ اپوزیشن کا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس، مشترکہ حکمت عملی پر غورحوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ، ایران کی نئے حملے پر انتباہوفاقی آئینی عدالت کا پشاور ہائیکورٹ کو تھری ایم پی او گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روکنے کا حکموزیر اعلیٰ بلوچستان سے کم سن شطرنج ماسٹر عبدالرحمٰن کی ملاقات، والد کو ملازمت دینے کا اعلانون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی ری ٹینڈرنگ ہوگی، منصوبہ فائیو سٹار ہوٹل میں بدلا جائے گاپاکستان اور سری لنکا کے پہلے ٹیسٹ کے ٹکٹوں کی فروخت آج دوپہر دو بجے شروعملک اندرونی اور بیرونی بحرانوں کی زد میں، نظام عوام سے لڑ رہا ہے: علامہ راجہ ناصر عباسملیحہ علی آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیںامریکی تاریخ میں پہلی بار ایوانِ نمائندگان میں سو سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کی کامیابیبلوچستان میں سیف سٹی منصوبوں پر پنجاب سے تعاون پر اتفاق، وزیراعلیٰ بگٹی کی زیر صدارت اجلاسامریکی فوج کی ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے تیاریاں تیز، مشرقِ وسطیٰ میں کمک کی تیاریکوئٹہ: وزیر اعلیٰ بگٹی کی صدارت میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی کا جائزہ
صفحہ اول› بلوچستان ›لسبیلہ

لسبیلہ: آر سی ڈی شاہراہ پر حادثات کی روک تھام کے لیے ڈیٹا کلیکشن کمیٹی قائم

لسبیلہ: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیرصدارت لیڈا کانفرنس ہال میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آر سی ڈی شاہراہ پر شرح حادثات کی ڈیٹا کلیکشن کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں ڈی سی لسبیلہ حمیرا بلوچ، ایس پی لسبیلہ نجیب پندرانی، ایس پی حب مرزا بلال حسن، اے ایس پی عدنان بشیر، نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے ایس پی، ضلع لسبیلہ کے ضلعی ناظم صحت، ریسکیو 1122 کے مانیٹرنگ آفیسر دھنیش کمار لیاری اور وندر کے ریسکیو انچارج وسیم اور فاروق بھی شریک ہوئے۔

زیرو پوائنٹ حادثہ اور ریسکیو اقدامات

اجلاس میں اوتھل زیرو پوائنٹ حادثے کی وجوہات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے میکانزم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ریسکیو 1122 اور نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ زیرو پوائنٹ حادثے پر فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں 39 ریسکیو مراکز ہیں، جن میں سے پانچ ضلع لسبیلہ اور حب میں ہیں۔ اکتوبر تک ٹریفک حادثات میں 204 مسافروں کو ریسکیو فرسٹ ایڈ دینے کے باوجود ان کی جانیں موقع پر ہی چلی گئیں۔

روک تھام کے فیصلے

اجلاس کے شرکاء نے آر سی ڈی ہائی وے پر پی ٹی کنٹریکٹرز کی مشینری، ہائی وے پر غلط پارکنگ اور ڈرائیوروں کی اوورٹیکنگ کو حادثات کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او، موٹروے اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی جوائنٹ میٹنگ جلد بلائی جائے گی۔

اجلاس میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے انٹری پوائنٹس سے مسافروں کی اوورلوڈنگ روکی جائے گی۔ اس سلسلے میں فوری طور پر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ میٹنگ کی جائے گی اور انہیں پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنی گاڑیوں سے ہیوی سرچ لائٹس فوری طور پر ہٹا دیں۔

کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے کہا کہ شہریوں کے لیے محفوظ سفر یقینی بنانا اور ان کی جان کی سلامتی انتظامیہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اگر کوئی ٹرانسپورٹر آر ٹی اے ایکٹ کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

کمشنر لسبیلہ نے آر سی ڈی ہائی وے پر موٹرسائیکلوں کے ذریعے پٹرول کی ترسیل پر فوری پابندی اور کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے۔

اشتہار