مولانا فضل الرحمان اور ناصر عباس کی ملاقات، قومی سطح کی مشاورت پر زور

اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس سے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور آل پارٹیز کانفرنس سے متعلق مشاورت کی گئی۔
ملاقات کے بعد گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اے پی سی نہیں بلکہ قومی سطح کی مشاورت ہونی چاہیے، جس میں حکومت، اپوزیشن سمیت تمام صوبوں کے اسٹیک ہولڈر شامل ہوں۔
ذرائع کے مطابق پی پی آئی کے رہنما بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔
شرکا نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کی اور اسے عوام کی حاکمیت اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔
شرکا نے پی ٹی آئی کے گرفتار وزیراعلیٰ، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔
شرکا نے مولانا فضل الرحمان کے نئے میثاقِ جمہوریت کے موقف کی حمایت کی اور مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس کو اس سمت ایک اہم ابتدائی قدم قرار دیا۔
جے یو آئی کے وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ، میر یونس ظہری اور عثمان بادینی شامل تھے، جبکہ پی ٹی آئی وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، بیرسٹر علی ظفر، عامر محمود ڈوگر، زین قریشی اور آخوندزادہ حسین احمد یوسفزئی شامل تھے۔
مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی قیادت کی بیٹھک میں ان کی تجویز پر تفصیلی غور کیا گیا، بعد ازاں پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پر اتفاق کر لیا۔
بیٹھک کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں شرائط کیا ہوں گی، یہ مشاورت سے تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن ہونا چاہیے اور امن کے لیے ہر اسٹیک ہولڈر کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
میڈیا ٹاک میں اسد قیصر نے کہا کہ حکومت معاشی، انتظامی اور گورننس کے محاذ پر مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
تاریخ ابھی کنفرم نہیں، 9 اور 10 نومبر کو بلانے پر غور جاری ہے۔











