محمد احمد: پہلی ٹیلی فلم پر پابندی نے کیریئر کا رخ بدل دیا

اسلام آباد: پاکستان کے سینئر اداکار اور ڈرامہ نگار محمد احمد نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی پہلی ٹیلی فلم کا سکرپٹ لکھنے سے انہیں روک دیا گیا تھا، جس نے بعد میں ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا۔
وہ حال ہی میں ایک یوٹیوب شو میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دور کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا۔
محمد احمد کے مطابق ٹیلی وژن میں آنے سے پہلے انہوں نے شیما کرمانی کے لیے ایک اسٹیج ڈرامہ لکھا تھا۔ شیما کرمانی نے اسکرپٹ کو سراہا اور خالد صاحب کو دکھایا، تاہم انہوں نے اسے ٹیلی وژن کے لیے ناموزوں قرار دیا۔ دونوں کے درمیان بحث کے بعد اسکرپٹ غضنفر علی کو بھیج دیا گیا۔
اداکار نے بتایا کہ ان کی پہلی ٹیلی فلم عورت اپنے دور کے لحاظ سے انتہائی جرات مندانہ موضوع پر مبنی تھی، مگر ان پر پابندی عائد کر دی گئی۔ خالد صاحب نے بھی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کر کے ڈرامہ بنوایا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق نشر ہونے کے بعد یہ ڈرامہ انتہائی کامیاب ثابت ہوا اور اس نے ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا۔ کہانی میں ایک ایسی عورت کی زندگی دکھائی گئی تھی جو معاشرتی دباؤ کے باعث ایک بدنام کاروبار میں دھکیل دی جاتی ہے، جبکہ حلالے جیسے موضوع کو بھی ڈرامے میں شامل کیا گیا تھا۔
محمد احمد نے کہا کہ اس دور میں ایسے موضوعات پر بات کرنا ممنوع سمجھا جاتا تھا، تاہم انہوں نے انہیں پیش کرنے کے لیے ایک خاص اور متوازن انداز اپنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ ٹیلی وژن کے لیے سکرپٹ لکھنا چھوڑ چکے ہیں، کیونکہ موجودہ دور میں نشر ہونے والے مواد جیسا مواد وہ نہیں لکھ سکتے۔











