رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 22° صاف 22° / 9°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:14مغرب 17:51عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی دھمکیاں طاقت نہیں، بے بسی کی علامت ہیں: ایرانی سپریم لیڈر کے مشیرشمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان چین پہنچ گئےعمران خان کو تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان، بامعنی مذاکرات کے لیے غیر مشروط آمادگی: محمود خان اچکزئیاستنبول: 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، ایران پر فوجی کارروائی کی مخالفت اور ہرمز کھولنے کا مطالبہاسحاق ڈار آر فور اجلاسوں میں شرکت کے لیے استنبول پہنچ گئےبلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی، ترقیاتی معلومات تک عوام کی رسائی ضروری: سرفراز بگٹیڈیرہ بگٹی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی مسلسل تیسرے روز کھلی کچہری، مسائل کے فوری حل کی ہدایتمکہ، جدہ اور طائف کے لیے حوثی حملوں کا انتباہ جاری، چند منٹ بعد واپس لے لیا گیانیب کی کارروائی تیز، سہیل آفریدی ریڈار پر، سابق وزرا کا اثاثوں کا ریکارڈ طلبگورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف جے یو آئی کا اصولی مؤقف، اسلم غوری کا جمہوریت دفن کرنے کا الزامخیبرپختونخوا کے اگلے وزیراعلیٰ وفاقی حکومت کے حمایت یافتہ ہوں گے: کامران مرتضیٰٹرمپ کا دعویٰ: 250 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے پاک بھارت جنگ رکی، 11 طیارے گرائے گئے
صفحہ اول› بلوچستان ›نصیرآباد

نصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں پر مشیر ترقی نسواں کی ملاقات

کوئٹہ: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ڈائریکٹر جنرل بی ایس سی اے ڈاکٹر حفیظ احمد جمالی، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کوئٹہ ڈاکٹر سید علی رضا شاہ اور ڈائریکٹر جنرل نیوٹیک بلوچستان ڈاکٹر حسین بخش مگسی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں نصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے پیشہ ورانہ ترقی، جدید فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار پر مبنی مہارتوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات اور مجوزہ تربیتی پروگراموں پر توجہ دی گئی۔

نصیرآباد کے لیے تربیتی پروگرام

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں، خاص طور پر خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنا پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نصیرآباد میں ایسے تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں جو مقامی ضروریات، دستیاب وسائل اور لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔

انہوں نے کہا کہ صرف روایتی تعلیم پر انحصار کے بجائے نوجوانوں کو عملی مہارتوں، ڈیجیٹل خواندگی، کاروباری صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع دینا ہوں گے تاکہ وہ نہ صرف ملازمت حاصل کر سکیں بلکہ اپنے کاروبار بھی شروع کر سکیں۔

خواتین کی معاشی خودمختاری

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے نصیرآباد کی خواتین میں موجود بے پناہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ انہیں معاشی مواقع میں بدلنے کے لیے موثر تربیتی سہولیات، ادارہ جاتی تعاون اور مارکیٹ سے منسلک ہنرمندی کے پروگرام ضروری ہیں۔

ان کے مطابق خواتین کی معاشی خودمختاری نہ صرف ان کے خاندانوں کا معیارِ زندگی بہتر بناتی ہے بلکہ مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مشیر ترقی نسواں نے متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط اشتراکِ عمل پر زور دیا تاکہ ایسے عملی اور نتیجہ خیز تربیتی اقدامات تشکیل دیے جائیں جو نوجوانوں اور خواتین کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لائیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر علاقے تک پہنچنے چاہئیں اور نصیرآباد جیسے اضلاع میں انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ محکمہ ترقی نسواں خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی معاشی سرگرمیوں میں موثر شمولیت کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔