رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° صاف 22° / 9°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:15مغرب 17:52عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
لاہور: بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ اور روشن پیکیجز کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطبیوٹمز یونیورسٹی سالانہ اسپورٹس فیسٹیول کا گورنر جعفر خان مندوخیل نے افتتاح کیامعاشی استحکام کے بعد گہری ادارہ جاتی اصلاحات کا مرحلہ شروع، وزیراعظم کی A&M وفد سے گفتگوفیلڈ مارشل عاصم منیر کا پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، دہشت گردوں کے خلاف مہم جاری رکھنے کا اعلانعدالتیں مستقبل کے ممکنہ قوانین روکنے کے لیے پیشگی فیصلہ نہیں کر سکتیں: اسلام آباد ہائیکورٹپیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا جمعہ کو اسلام آباد میں اجلاسبلوچستان اسمبلی: سردار نظام کے خاتمے اور نواب، سردار کے الفاظ پر پابندی کی قرارداد آج پیش ہوگیشیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملے کی کوشش، ملبہ گرنے سے فلپائنی اور نیپالی کارکن ہلاک، پاکستانی اور انڈین زخمیپنجاب میں کیمرے والے سمارٹ گلاسز اور خفیہ ریکارڈنگ آلات پر 30 روزہ پابندی، مریم نواز کی سختی سے عمل کی ہدایتوزیراعظم کا پشاور میں اپیکس کمیٹی سے خطاب، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی “انتہائی مجبوری” میں نافذ کرنے کا دعویٰآئی ایم ایف کی پیش گوئی: خطے کی معیشت اس سال 1.3 فیصد سکڑے گی، 2027 میں 6.6 فیصد نموصدر زرداری تین روزہ دورے پر جرمنی روانہ، 23 برس بعد پاکستانی سربراہ مملکت کا پہلا دورہ

ٹیکس نظام کی اصلاحات کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف کی دو روزہ ورکشاپ اسلام آباد میں شروع

ٹیکس نظام کی اصلاحات کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف کی دو روزہ ورکشاپ اسلام آباد میں شروع
تصویر: پی آئی ڈی

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اشتراک سے ملک کے ٹیکس نظام کو جدید، سادہ، شفاف اور معاشی ترقی کے لیے سازگار بنانے کے لیے دو روزہ اعلیٰ سطحی ورکشاپ کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ ورکشاپ 20 اور 21 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس میں ٹیکس اصلاحات، محصولات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور وفاقی و صوبائی ٹیکس نظام میں ہم آہنگی کے لیے اہم تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق ورکشاپ میں اعلیٰ حکومتی حکام، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے نمائندگان، بین الاقوامی ٹیکس ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نجی شعبے کے رہنما شریک ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد ایسا ٹیکس نظام تشکیل دینے کے لیے پالیسی ترجیحات کا تعین کرنا ہے جو محصولات کی بنیاد وسیع کرنے کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی راہ بھی ہموار کرے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور شعبہ مالیاتی امور کے ڈائریکٹر روڈریگو والڈیز کے ہمراہ افتتاحی کلمات ادا کیے۔

زیرِ بحث امور

ورکشاپ میں ٹیکس پالیسی اور اقتصادی ترقی کے باہمی تعلق، موجودہ ٹیکس نظام کو جدید بنانے، وفاق اور صوبوں کے درمیان سیلز ٹیکس کے نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور انکم ٹیکس کو زیادہ سادہ اور غیر جانب دار بنانے جیسے امور زیرِ بحث آئیں گے۔

شرکاء ٹیکس انتظامیہ کی استعداد بہتر بنانے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال، ٹیکس قوانین پر عمل درآمد اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں اضافے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیں گے۔ مالیاتی وفاقیت اور صوبائی ٹیکس محصولات میں اضافے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا، تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر محصولات کا نظام زیادہ مؤثر اور مربوط بنایا جا سکے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق ورکشاپ میں ایک وسیع، منصفانہ، سادہ اور شفاف ٹیکس نظام کی تشکیل پر توجہ دی جائے گی، جس سے قومی محصولات میں اضافے کے ساتھ کاروباری ماحول بہتر بنانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد مل سکے۔

ورکشاپ کے اختتام پر اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ ہوگا، جس میں مختلف نشستوں کے دوران سامنے آنے والی تجاویز کو یکجا کرنے، اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے ترجیحی اقدامات متعین کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون کا طریقہ کار وضع کرنے پر غور کیا جائے گا۔

یہ ورکشاپ پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کو آگے بڑھانے اور ایسے مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل کی کوششوں کا حصہ ہے جو محصولات کے نظام کو مؤثر بنانے کے ساتھ اقتصادی سرگرمیوں اور پائیدار ترقی کی معاونت بھی کر سکے۔