رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 15° صاف 21° / 8°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:15مغرب 17:52عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
تربت: سبزی منڈی سری کہن منتقل کرنے کے لیے دکانداروں کو چھ ماہ کی مہلتکوئٹہ ڈویژن: کمشنر ذیشان لاشاری کی صدارت میں پولیو ٹاسک فورس کا آن لائن جائزہ اجلاستربت: گھنہ مزاری کہن میں متنازعہ اراضی کے معاملات، اسسٹنٹ کمشنر کا دورہصوبائی وزیر خزانہ کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا پروگریسو جائزہ اجلاسربابہ خان بلیدی کی نیپا، بی ایس سی اے اور نیوٹیک کے حکام سے ملاقات، نصیرآباد میں تربیت پر غورنصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں پر مشیر ترقی نسواں کی ملاقاتکوئٹہ: نئے ایکسائز انسپکٹرز کے لیے تربیتی پروگرام، انسدادِ منشیات کے قوانین پر نشستچمن: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول محلہ شہسوار کا اچانک دورہاوستہ محمد: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ریویو اجلاس، شکایات کے پائیدار حل کی ہدایتجعفرآباد: ڈپٹی کمشنر خالد خان کی صدارت میں امن و امان کے تین اجلاسموسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ جج کا تحصیل درگ جوڈیشل کمپلیکس کا دورہنصیرآباد: 309 ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کا جائزہ، ٹرانسفارمر واپسی پر نوٹسز کی ہدایت

پاک افغان بارڈر ٹریڈ بحال کی جائے، تجارت اور سیاست الگ رکھی جائے: افغان کونسل جنرل

پاک افغان بارڈر ٹریڈ بحال کی جائے، تجارت اور سیاست الگ رکھی جائے: افغان کونسل جنرل

کوئٹہ: افغان کونسل جنرل برائے کمرشل عبدالعنان ہمت نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر ٹریڈ کا شروع ہونا وقت اور حالات کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سنگین صورتحال کو ختم کر کے دونوں ممالک کے درمیان مزید روابط بڑھاتے ہوئے بارڈر کی بندش ختم کرنا اور تجارت بحال کرنا ہوگا، تاکہ تجارت اور سیاست کو الگ رکھا جا سکے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز کوئٹہ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے دورے کے موقع پر نو منتخب کابینہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر چیمبر کے صدر نوید یوسف، پاک ایران مشترکہ چیمبر آف کامرس کے صدر جاوید رحیم پراچہ، پاک ایران چیمبر کے نائب صدر عطاء اللہ مینگل، نعیم الرحمن نورزئی، مقبول الٰہی بھٹی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

عبدالعنان ہمت نے امید ظاہر کی کہ منتخب عہدیدار تاجروں اور بزنس کمیونٹی کو کاروباری سرگرمیوں اور بارڈر ٹریڈ کے حوالے سے حائل رکاوٹوں اور مشکلات کے حل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے زمیندار اور تاجروں سمیت بزنس کمیونٹی بارڈر کی بندش سے پریشان اور مشکلات سے دوچار ہے۔ بارڈر ٹریڈ شروع ہونے سے دونوں ممالک کے تاجروں اور بزنس کمیونٹی کو کاروباری سہولیات اور عوام کو فائدہ ہوگا۔

کونسل جنرل نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ہمارے اپنے ہیں، ہماری کوشش ہوگی کہ روابط بڑھیں اور تجارت بحال ہو۔ ان کے مطابق یہ تجارتی سرگرمیاں وقت اور حالات کے لیے ناگزیر ہیں، اس لیے تجارت اور سیاست کو الگ الگ رکھنا چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیاں اور بارڈر ٹریڈ متاثر نہ ہوں۔