کولمبیا کا بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کا فیصلہ مسترد، سعودی عرب سمیت مسلم ممالک کی مذمت

ریاض: سعودی عرب اور 18 دیگر عرب و مسلم ممالک نے بیت المقدس میں کولمبیا کے سفارت خانہ کھولنے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے خبردار کیا کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے دو ریاستی حل کی بنیاد پر پائیدار امن کے لیے ہونے والی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
سعودی میڈیا کے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے کولمبیا کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قانون کے تحت کالعدم اور غیر قانونی ہے۔
یہ بیان سعودی عرب، فلسطین، اردن، انڈونیشیا، ترکیہ، الجزائر، جبوتی، سوڈان، شام، صومالیہ، عمان، قطر، کویت، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، مصر اور یمن کے وزرائے خارجہ نے جاری کیا۔
قراردادوں کا حوالہ
وزرا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی کوئی بھی کارروائی یا فیصلہ کالعدم ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مؤقف سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں، بالخصوص سلامتی کونسل کی 1980 میں منظور کردہ قرارداد نمبر 476 اور 478 کے عین مطابق ہے۔ مذکورہ قراردادیں مقبوضہ بیت المقدس کی نوعیت یا حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ اس شہر سے سفارتی مشنز (سفارت خانے) واپس بلا لیے جائیں۔
وزرا نے شہر کو ان فلسطینی علاقوں کا حصہ قرار دیا جو 1967 میں قبضے میں لے لیے گئے تھے۔
وزرائے خارجہ نے کولمبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور اسے واپس لے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ایسے اقدامات اٹھانے سے گریز کرے جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
انہوں نے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت کا بھی اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔











