ہارون اختر خان سے یونیڈو وفد کی ملاقات، صنعتی ترقی اور قابلِ تجدید توانائی پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (یونیڈو) کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں صنعتی ترقی، بین الاقوامی تعاون، موسمیاتی تبدیلی، توانائی، مسابقت اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ہارون اختر خان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن کو اجاگر کیا جس کا مقصد پائیدار صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور معاشی خود انحصاری کے ذریعے پاکستان کو ایک مضبوط اور برآمدات پر مبنی صنعتی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان صنعتی ترقی، معاشی استحکام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب گامزن ہے۔
قومی صنعتی پالیسی اور مقامی مینوفیکچرنگ
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بڑی نوجوان آبادی ایک اہم قومی اثاثہ ہے، تاہم صنعتی ترقی کے بغیر پائیدار معاشی پیش رفت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی صنعتی پالیسی تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد صنعتی ترقی کے لیے واضح سمت کا تعین، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ملکی معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے برآمدات پر مبنی معاشی نمو کو فروغ دینے کے ساتھ درآمدات کے متبادل مقامی مصنوعات کی تیاری اور مقامی مینوفیکچرنگ کو بھی وسعت دینا ضروری ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ صنعت اور زراعت دونوں شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جس سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال، ویلیو ایڈڈ صنعتوں کی ترقی اور مقامی پیداوار کو مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور برآمدات کی مسابقتی صلاحیت بڑھے۔
انہوں نے پاکستان میں قدرتی وسائل، بالخصوص قیمتی پتھروں اور دیگر قیمتی معدنیات کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیتون کے تیل کی پیداوار سے لے کر قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ تک مختلف شعبوں میں صنعتی مواقع بڑھ رہے ہیں، اور مقامی ویلیو چینز کی ترقی ناگزیر ہے۔
موسمیاتی تبدیلی، الیکٹرک گاڑیاں اور شمسی توانائی
موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے منفی اثرات پاکستان کی زرعی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان اثرات سے نمٹنے، پائیدار توانائی کے حل اپنانے اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی صنعتی ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
ہارون اختر خان نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔ نئی توانائی کی گاڑیوں کی پالیسی متعارف کرائی جا چکی ہے، جبکہ ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور چارجنگ انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شمسی توانائی کے فروغ سے دیہی آبادی اور زرعی شعبے کے لیے توانائی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجوزہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم پالیسی کا ذکر کیا، جس سے الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کی مقامی تیاری کی صلاحیت کو فروغ ملے گا اور صنعتی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوگا۔
یونیڈو وفد کا مؤقف
ہارون اختر خان نے کہا کہ یونیڈو تکنیکی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، استعداد کار میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے پاکستان کی صنعتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے صنعتی ترقی، قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور مقامی مینوفیکچرنگ کو تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی تعاون، پرامن روابط اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری پر یقین رکھتا ہے۔
یونیڈو کے وفد نے پاکستان کے ساتھ تعاون کے مواقع کو سراہتے ہوئے رکن ممالک کے درمیان تجربات، تکنیکی مہارت اور بہترین عملی طریقہ کار کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔ وفد نے قابلِ تجدید توانائی، بالخصوص شمسی توانائی، کو باہمی تعاون کا اہم شعبہ قرار دیا۔
وفد نے قابلِ تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صنعتی ویلیو چینز کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی و اختراعی صنعتی طریقوں کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وفد کے مطابق باہمی تعاون کو وسعت دینے سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے، ٹیکنالوجی کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یونیڈو کے نمائندوں نے پاکستان میں ایسے عملی منصوبوں کے امکانات تلاش کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا جن سے صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کو فروغ ملے۔
ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور یونیڈو کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنا کر وزیراعظم کے اس وژن کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کو ایک مسابقتی، پائیدار اور برآمدات پر مبنی صنعتی معیشت بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری، جدت، مقامی مینوفیکچرنگ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔











