گوردوارے کی مسماری پر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار

اسلام آباد: بھارت کی وزارتِ خارجہ نے فاروق آباد میں واقع 125 سال پرانے گوردوارہ سری گرو سنگھ سبھا صاحب کی مبینہ مسماری کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت اور بھارت کی منافقت کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 24 تا 26 جون 2026 کے اس واقعے پر صوبہ پنجاب کی حکومت نے فوری کارروائی کی اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے تحقیقات کا حکم دیا۔ وزیرِ اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جبکہ گوردوارے کی مکمل بحالی کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
پاکستان تمام مذہبی عبادت گاہوں کے تحفظ کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
بھارت کے حوالے سے دعوے
بیان میں کہا گیا کہ بھارت کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ 1984 کے آپریشن بلیو اسٹار کے دوران اور اس کے بعد ہونے والے سکھ مخالف فسادات میں بھارت بھر میں متعدد گوردوارے تباہ کیے گئے یا انہیں شدید نقصان پہنچایا گیا۔
بیان کے مطابق اروناچل پردیش کے علاقے مینچوکا میں واقع تاریخی گرو نانک تپوستھان گوردوارہ کو 2023 میں سیاسی احکامات کے تحت زبردستی بدھ خانقاہ میں تبدیل کر دیا گیا اور وہاں سے گرو گرنتھ صاحب کو ہٹا دیا گیا۔ ہری دوار، پوری (اڑیسہ)، اتراکھنڈ اور دیگر علاقوں میں متعدد سکھ مذہبی مقامات کو مسماری یا بے حرمتی کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ 2020-21 کی سکھ کسان تحریک کے دوران پولیس تشدد اور مایوسی کے نتیجے میں تقریباً 700 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 1995 سے اب تک بھارت میں 4 لاکھ سے زائد کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔
اس میں کہا گیا کہ پاکستان اپنے 1,817 اقلیتی مذہبی مقامات کے تحفظ اور بحالی کے لیے سرگرم ہے، جن میں حالیہ برسوں میں درجنوں کی مرمت و بحالی کی جا چکی ہے، جبکہ بھارت منظم انداز میں اقلیتوں کے خلاف ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیان کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کا پروپیگنڈا اس کے مظالم کو نہیں چھپا سکتا۔ بھارت کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنی چاہیے اور سکھ برادری کے ساتھ کیے گئے سلوک کا حساب دینا چاہیے۔











