کیریک پروگرام کا نیا مرحلہ: 2030 تک 7.5 ارب ڈالر سے تجارتی راہداریاں بنانے کا منصوبہ

اسلام آباد: وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون پروگرام کیریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس کا مقصد ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو تجارتی طور پر مفید اقتصادی راہداریوں میں تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے 2030 تک 7.5 ارب ڈالر سے زائد کی مالی معاونت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور رابطوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق کیریک پروگرام نے گزشتہ 25 برسوں کے دوران مجموعی طور پر 60.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کی ہے، جس سے اس کے 11 رکن ممالک میں 20 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں اور ریلوے پٹریوں کی بہتری میں مدد ملی۔ بینک نے اس پروگرام کے لیے 19.9 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔
ان سرمایہ کاریوں کے باوجود 2025 میں کیریک ممالک کے درمیان تجارت ان کی مجموعی تجارت کا صرف تقریباً 5 فیصد رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو پیداواری مراکز، رسد کی سہولتوں اور سرحد پار منڈیوں سے زیادہ مؤثر انداز میں جوڑنے کی ضرورت ہے۔ بینک نے اگلے مرحلے میں نجی شعبے سے تقریباً 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔
ڈاکٹر فیصل جاوید کی تجاویز
علاقائی روابط کے ماہر، مصنف اور دفتر برائے تحقیق، جدت و تجارتی فروغ (او آر آئی سی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل جاوید نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو میں کہا کہ کیریک کے اگلے مرحلے میں ٹرانسپورٹ راہداریوں کو تجارتی طور پر قابلِ عمل اقتصادی راہداریوں میں تبدیل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کے مطابق علاقائی ممالک کو ٹرانسپورٹ، تجارت، پیداوار، توانائی اور ڈیجیٹل نظاموں کو باہم مربوط کرنا ہوگا تاکہ اشیا، خدمات، سرمایہ کاری اور افراد کی نقل و حرکت آسان ہو۔ اس کے لیے کسٹمز کے طریقہ کار میں ہم آہنگی، ڈیجیٹل دستاویزات، ون ونڈو سہولتوں اور سرحدی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے ذریعے سرحد پار نقل و حرکت کے اخراجات اور وقت میں کمی لانا ضروری ہوگا۔
ڈاکٹر جاوید نے زور دیا کہ اگلے مرحلے میں سڑکوں اور ریلوے سے آگے بڑھ کر رسد کے مراکز، خشک بندرگاہوں، گوداموں، سرد خانوں اور بڑی ٹرانسپورٹ گزرگاہوں کے ساتھ صنعتی مراکز کی تعمیر بھی شامل ہونی چاہیے۔ ان سہولتوں سے علاقائی ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کو زرعی منڈیوں، صنعتی پیداواری مراکز اور برآمدات پر مبنی صنعتوں سے منسلک کیا جا سکتا ہے، جس سے ممالک موجودہ بنیادی ڈھانچے سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی طور پر قابلِ عمل اقتصادی راہداریوں کی ترقی کے لیے مربوط حکمت عملی ضروری ہے، جس میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مؤثر تجارتی طریقہ کار، قابلِ اعتماد رسدی خدمات اور پیداواری مراکز و منڈیوں کے درمیان مضبوط روابط کی معاونت حاصل ہو۔
ڈاکٹر جاوید نے ڈیجیٹل اور توانائی کے شعبوں میں رابطوں کو بھی زیادہ اہمیت دینے پر زور دیا، جن میں ڈیجیٹل کسٹمز نظام، الیکٹرانک سرٹیفکیٹ، مال برداری کی نگرانی اور ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھنے والے ادائیگی کے نظام شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی آئی آر پر مبنی ٹرانزٹ سہولتوں اور مربوط ون ونڈو نظام جیسے علاقائی انتظامات پر عمل درآمد سے کاروباری لین دین کے اخراجات اور سرحدوں پر تاخیر مزید کم کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ یہ انتظامات قومی ضوابط اور متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔
پاکستان کے لیے اہمیت
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کیریک پروگرام اپنی 25ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ یہ موقع شریک ممالک کو اس بات کا ازسرنو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ علاقائی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے تجارت کے حجم اور وسیع تر معاشی فوائد میں کس طرح اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پروگرام نے وسطی اور مشرقی ایشیا میں ٹرانسپورٹ روابط کے فروغ میں مدد دی ہے، تاہم خطے کے اندر تجارت کا نسبتاً کم حصہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر خطے کی مکمل تجارتی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کافی نہیں رہی۔
پاکستان کے لیے کیریک کے بدلتے ہوئے ترجیحی اہداف خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ملک 2027 میں اس پروگرام کی سربراہی سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ڈاکٹر جاوید کے مطابق یہ سربراہی ایک ایسے علاقائی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے جس میں وسطی ایشیا، چین، جنوبی ایشیا اور بحیرہ عرب کو تجارتی بنیادوں پر منسلک کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کے ساتھ بہتر انضمام سے خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ پاکستان کے لیے ٹرانزٹ تجارت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو سرحد پار تجارت میں سہولت، رسدی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور ملکی پیداواری مراکز کو علاقائی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے عملی اقدامات کو فروغ دینا چاہیے۔
ایم ایل ون اور گوادر
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مرکز برائے سی پیک میں ریسرچ ایسوسی ایٹ مجتبیٰ ارشد نے کہا کہ کیریک راہداریاں وسطی اور مشرقی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے منسلک کرنے کے لیے ایک اہم تزویراتی فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔ ان کے بقول علاقائی ٹرانسپورٹ روابط میں بہتری بالآخر خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کو کراچی سمیت پاکستان کی سمندری بندرگاہوں تک رسائی فراہم کر سکتی ہے، جس سے تجارت میں تنوع اور اشیا کی زیادہ مؤثر نقل و حرکت کے مواقع پیدا ہوں گے۔
تاہم ارشد نے خبردار کیا کہ یہ فی الحال ایک طویل مدتی ہدف ہے، نہ کہ وسطی ایشیا کے لیے پہلے سے قائم تجارتی راستہ۔ ان کے مطابق تجارتی طور پر قابلِ عمل سرحد پار ریلوے کے ذریعے مال برداری کی خدمات شروع کرنے سے پہلے کئی زمینی رابطے اور ادارہ جاتی انتظامات قائم کرنا باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے مرکزی ٹریک ایم ایل ون کو جدید بنانے کی مجوزہ منصوبہ بندی اس رابطہ جاتی خلا کو کسی حد تک پر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایم ایل ون کی بہتری سے پاکستان میں مال برداری اور مسافروں کی نقل و حمل کی خدمات مضبوط ہوں گی، جبکہ پیداواری مراکز، رسدی سہولتوں اور سمندری بندرگاہوں کے درمیان زیادہ مؤثر روابط بھی قائم کیے جا سکیں گے۔
ارشد کے مطابق اگر اس منصوبے کے لیے مالی وسائل دستیاب ہو جائیں اور ضروری سرحد پار رابطوں کی ترقی کے ساتھ اس پر عمل درآمد آگے بڑھے تو یہ ریلوے کیریک کے تحت پاکستان کے وسیع تر علاقائی رابطہ جاتی نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ بن سکتی ہے۔ ایسی پیش رفت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے مقاصد کی تکمیل میں بھی معاون ہوگی، خصوصاً صنعتی تعاون، تجارتی سہولتوں اور ٹرانسپورٹ روابط کی بہتری کے حوالے سے۔
سی پیک کے 2025 سے 2029 کے عملی منصوبے میں ایم ایل ون کے لیے ایک قابلِ عمل مالیاتی اور نفاذی منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں گوادر کی اس صلاحیت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسے افغانستان، وسطی ایشیا اور خطے سے باہر کی منڈیوں کے ساتھ تجارت کے لیے دروازے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بندرگاہوں کی ترقی کو اندرونِ ملک ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور سرحد پار تجارتی انتظامات سے منسلک کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
کامیابی کی شرائط
ماہرین نے زور دیا کہ علاقائی راہداریوں کی تجارتی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تکمیل کافی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق مستقل تجارت اور نجی شعبے کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے مال برداری کے مسابقتی کرائے، قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ خدمات، بندرگاہوں کے مؤثر آپریشنز، کسٹمز کے مربوط طریقہ کار اور نامکمل سرحد پار روابط میں سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 2030 تک 7.5 ارب ڈالر سے زائد کی مجوزہ مالی معاونت اور نجی سرمایہ کاری سے تقریباً 3 ارب ڈالر متحرک کرنے کا ہدف اس تبدیلی کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے کیریک ممالک کو ایسے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت ملے گی جو معاشی سرگرمیوں سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ منسلک ہو۔
پاکستان کے لیے 2027 میں کیریک کی سربراہی علاقائی تجارت میں سہولت، رسدی نظام کی ترقی اور ٹرانسپورٹ روابط کے حوالے سے تعاون کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ وسطی ایشیائی منڈیوں اور بحیرہ عرب کی بندرگاہوں کے درمیان روابط بھی مضبوط کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کیریک کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ شریک ممالک بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو ضابطہ جاتی تعاون، سرحدی انتظام کے مؤثر نظام اور تجارتی طور پر قابلِ عمل ٹرانسپورٹ خدمات کے ساتھ کس حد تک مربوط کرتے ہیں، تاکہ علاقائی روابط تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار میں پائیدار اضافے کا ذریعہ بن سکیں۔











