رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی

ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی

سعودی عرب نے یورپی صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کئے جائیں گے جبکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ بھی معطل کر دی گئی ہے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈرون حملوں میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا، سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔

حملوں کے بعد سعودی حکام نے جمعہ کو مشرق سے مغرب تک صحرا میں قائم تیل کی پائپ لائن بند کر دی جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے سعودی تیل کی برآمدات کو بڑی حد تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتی رہی تھی۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی سپلائی میں کمی کے بعد یورپی صارفین، بالخصوص پولینڈ، متبادل تیل کی تلاش میں تیزی لانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اب آبنائے ہرمز کے راستے مزید تیل برآمد کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس مقصد کیلئے نام نہاد ڈارک شپمنٹس کا سہارا لیا جا سکتا ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق پہلے ہی کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایسی خفیہ یا غیر روایتی شپمنٹس کے ذریعے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 70 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا تقریباً 30 سے 40 فیصد بنتا ہے۔

موضوعات: