وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا پولیس ڈیجیٹل انیشیٹوز کا افتتاح: مستونگ کے باغات سے حملے پر مالکان سہولت کار تصور ہوں گے

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اگر مستونگ میں انگور کے باغات سے صوبائی وزیر داخلہ یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ ہوتا ہے تو جائیداد کے مالکان جرم سے بری الذمہ نہیں بلکہ سہولت کار تصور ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں تحصیلداروں کی بھرتی سے متعلق شکایات پر کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کی رپورٹ میڈیا کے سامنے لائی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان گورننس کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جانے کے لیے پرعزم ہے کیونکہ اس سے عوامی خدمت، شفافیت اور سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ بلوچستان پولیس کی نئی اور اپ گریڈ کی گئی ایپلی کیشنز عام شہری کو نہ صرف کریمنل جسٹس سسٹم بلکہ روزمرہ شکایات اور مشکلات کے ازالے میں بھی سہولت دیں گی، جبکہ خواتین اور شہداء کے خاندانوں کے لیے متعارف کرائی گئی ڈیجیٹل سہولیات عوامی اعتماد میں اضافہ کریں گی۔
وہ جمعہ کو سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں بلوچستان پولیس کے ڈیجیٹل انیشیٹوز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر ضیاء اللہ لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان سمیت پولیس افسران و جوان اور میڈیا نمائندگان موجود تھے۔ قبل ازیں آئی جی پولیس محمد طاہر خان نے وزیر اعلیٰ کو لانچ کی جانے والی 16 ایپس پر تفصیلی بریفنگ دی۔
آٹھ نئی ایپس، آٹھ پرانی اپ گریڈ
وزیر اعلیٰ نے ڈیجیٹل انیشیٹوز کو سراہتے ہوئے آئی جی پولیس، ان کی ٹیم اور آئی ٹی ٹیم کو مبارکباد دی اور کہا کہ حکومت کی پہلے دن سے یہی سوچ رہی ہے کہ گورننس کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر خدمات ملیں اور نظام میں شفافیت آئے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پولیس کی آٹھ پرانی ایپلی کیشنز کو بہتر بنایا گیا ہے جبکہ آٹھ نئی ایپلی کیشنز متعارف کرائی گئی ہیں۔
انہوں نے ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز احسن اسد علوی کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کا تبادلہ بلوچستان سے ہو چکا ہے، بلوچستان کے عوام کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں مستقبل کی ذمہ داریوں میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے لیے متعارف کرائی گئی سہولت ان کے دل کے بہت قریب ہے، جس کے ذریعے ان خاندانوں سے براہِ راست رابطہ رکھنے، ان کی ضروریات جاننے اور ان کی فلاح و بہبود بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ پولیس کی ڈیجیٹلائزیشن کے تحت خدمت مرکز، ہوٹلنگ، ٹریولنگ اور آئی جی پولیس شکایات سیل سمیت مختلف شعبوں کے لیے سہولیات متعارف کرائی گئی ہیں جن سے شہری کو یہ اعتماد ملے گا کہ پولیس اس کی خدمت کے لیے دستیاب ہے۔
خواتین کے تحفظ کی ایپ اور آگاہی مہم
وزیر اعلیٰ نے خواتین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کی ایپ کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ورک پلیس، سڑکوں اور سفر کے دوران ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس ایپ کو مزید بہتر بنانے اور عوام بالخصوص طالبات کو اس سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت بھرپور آگاہی مہم شروع کرے گی تاکہ یونیورسٹیوں اور کالجز جانے والی، ملازمت کرنے والی اور سفر کرنے والی بچیاں خود کو محفوظ محسوس کریں۔ یہ ایپ ایک کلک پر ایمرجنسی ڈکلیئر کرنے اور والدین و پولیس کو فوری اطلاع دینے کی سہولت دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کو آگے لے جانے کے لیے خواتین اور بچیوں کو تعلیم، مواقع اور تحفظ دینا ضروری ہے۔ بلوچ قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کرنے اور بچیوں کو استعمال کرنے والوں کا جواب یہی ہے کہ حکومت اپنی بچیوں کو اسکالرشپس دے گی، انہیں ہارورڈ اور آکسفورڈ بھیجے گی، پنک اسکوٹیز اور پنک بسیں فراہم کرے گی، ورک پلیس ہراسمنٹ کے قوانین کو مزید مؤثر بنائے گی اور جدید ڈیجیٹل سہولیات دے گی تاکہ بچیاں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ صوبے اور ملک کی خدمت کریں۔
50 لاکھ انعام اور 5 کروڑ روپے کا اعلان
وزیر اعلیٰ نے ڈیجیٹل انیشیٹوز پر کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے لیے 50 لاکھ روپے نقد انعام اور بلوچستان پولیس کی مزید ڈیجیٹلائزیشن کے لیے رواں سال 5 کروڑ روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بلوچستان میں ڈیجیٹلائزیشن کے لیے تعاون پر پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دوسرے صوبوں کے اچھے اقدامات سے استفادہ کرنے میں کوئی عار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت اور گلگت بلتستان حکومت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر بلوچستان کے میرٹ بیسڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیسٹنگ سسٹم کے لیے معاونت مانگی ہے اور وہ یہ نظام اپنے صوبوں میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی کوئی حد نہیں، جتنا زیادہ نظام ڈیجیٹل ہوگا اتنی ہی سروس ڈیلیوری بہتر ہوگی۔ انہوں نے شہداء کے ورثاء سے کہا کہ وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں، حکومت بلوچستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
پولیس کی تنخواہیں، تھانہ کلچر اور شکایات سیل
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، پولیس کے جوان ہمارے اپنے بچے ہیں۔ فائٹنگ فورس، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور ایس او ڈبلیو کی تنخواہوں میں پہلے ہی اضافہ کیا جا چکا ہے۔ بلوچستان کو اے ایریا قرار دیے جانے کے بعد پولیسنگ کے نظام کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں کچھ وقت لگے گا، تاہم حکومت کی توجہ پولیس کو بااختیار بنانے پر ہے اور کوشش ہے کہ تین یا چار سال بعد بلوچستان پولیس ایک مضبوط اور بااختیار سروس کے طور پر سامنے آئے۔ تنخواہوں میں توازن پیدا کیا جائے گا اور کسی سے امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی محمد طاہر خان کی قیادت میں بلوچستان پولیس جس بہادری اور عزم سے ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ حکومت کو بعض ایسے فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں جو فوری طور پر مقبول نہ ہوں اور جن سے سیاسی سرمایہ متاثر ہو، لیکن ریاست کے فیصلے سیاسی مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔ "حقیقی قیادت ہمیشہ مقبول فیصلے نہیں کرتی بلکہ درست فیصلے کرتی ہے"، اور تاریخ ثابت کرے گی کہ پولیسنگ سے متعلق فیصلے درست تھے۔ ابتدا میں مشکلات ضرور آئیں گی، مگر انہیں یقین ہے کہ بلوچستان پولیس پاکستان کی بہترین پولیس سروسز میں سے ایک بن کر ابھرے گی اور حکومت اس کے لیے تمام وسائل اور سازگار ماحول فراہم کرے گی۔
تھانہ کلچر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے پاکستان کا دیرینہ مسئلہ ہے اور اب پولیسنگ کے روایتی طریقوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ ایف آئی آر کے اندراج میں پولیس کو درخواست میں قابلِ عمل مواد دیکھنا ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد پراسیکیوشن سمیت پورا نظامِ انصاف حرکت میں آتا ہے، اس لیے کوشش ہوتی ہے کہ جہاں ممکن ہو معاملات ابتدائی سطح پر باہمی طور پر حل ہوں۔ آئی جی پولیس کمپلنٹ پورٹل پر درج شکایت فوری طور پر آئی جی کے کنٹرول سینٹر کی اسکرین پر ظاہر ہوتی ہے، متعلقہ افسران کو ہدایات دی جاتی ہیں، ازالے کا ٹائم فریم مقرر ہوتا ہے اور پیش رفت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ نظام کو مکمل مؤثر ہونے میں کچھ وقت لگے گا لیکن عوام کو واضح بہتری نظر آئے گی۔
سیف سٹی اتھارٹی اور سیکرٹری آئی ٹی
سیف سٹی سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں شہید کیے گئے تاجروں اور ڈاکٹر ماہ نور کے کیسز واضح مثال ہیں کہ سی سی ٹی وی اور سیف سٹی کیمروں سے جرائم اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے میں کتنی مدد ملتی ہے۔ بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد 40 سے 50 سے زائد افراد کی گرفتاری میں بھی سیف سٹی نظام نے اہم کردار ادا کیا۔ حکومت نے سیف سٹی اتھارٹی قائم کر دی ہے اور اس حوالے سے قانون سازی بھی مکمل ہو چکی ہے۔
انہوں نے سیکرٹری آئی ٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں آئی ٹی سیکرٹریز کا ٹینور بعض اوقات صرف دو ماہ ہوتا تھا، جبکہ موجودہ سیکرٹری آئی ٹی اکتوبر میں تین سال مکمل کر لیں گے۔ انہوں نے پورا نظام صفر سے شروع کر کے اس مقام تک پہنچایا کہ سیف سٹی ایکٹ کے ذریعے اتھارٹی قائم ہوئی اور اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مربوط کر دیا گیا۔
"ریاست تھکنے والی نہیں، دہشت گردوں کو تھکنا ہے"
ریاستی رٹ اور سیکیورٹی صورتحال سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، حکومت نے نہ اس سے آنکھیں چرائیں اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں سب ٹھیک ہے۔ بلوچستان اس وقت جنگ کی کیفیت میں ہے اور یہ پاکستان کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ جنگ ہے، جس میں جغرافیائی صورتحال اور بعض کمزوریوں کے باعث صوبہ بفر زون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس جنگ کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق کے ٹھوس اور واقعاتی شواہد موجود ہیں، جن میں کلبھوشن یادیو کا معاملہ اور سابق وزرائے اعظم کی جانب سے عالمی برادری کو دیے گئے ڈوزیئرز شامل ہیں۔
انہوں نے معرکۂ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور حکومت پاکستان کے تعاون سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو مؤثر جواب دیا، اب مخالف عناصر اسی جنگ کو دوسرے ڈومین میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی میں اضافے کی پہلی وجہ افغانستان میں نیٹو فورسز کا چھوڑا گیا جدید اسلحہ ہے جو بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہے؛ نیٹو نے 30 سال افغان نیشنل آرمی کو تربیت دی مگر وہ 30 گھنٹے بھی کابل کا دفاع نہ کر سکی۔ پاکستان کے لیے اس چیلنج سے نمٹنا وقت طلب ہے کیونکہ ہماری خریداری کے تمام مراحل باقاعدہ نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ دہشت گرد عناصر بلوچ عوام اور نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں جس کے مقاصد وہ کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال نہ اتنی خراب ہے جتنی پیش کی جاتی ہے اور نہ اتنی اچھی، حکومت کو مکمل ادراک ہے اور اس سے نمٹنے کا واضح منصوبہ موجود ہے۔ صرف ایک سال میں ایک ہزار سے زائد سخت گیر دہشت گردوں کو غیر مؤثر کیا جا چکا ہے۔ دہشت گرد چند منٹ کے لیے کسی شاہراہ پر آ کر ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے تمام شاہراہیں ان کے کنٹرول میں ہوں، حالانکہ صوبے میں چار ہزار کلومیٹر سے زائد شاہراہیں ہیں۔ یہ گوریلا وار فیئر ہے، مگر ریاست اس جنگ سے تھکنے والی نہیں، دہشت گردوں کو تھکنا ہے۔ یہ ہزار سال کی نہیں بلکہ ایک دو سال میں ختم ہونے والی جنگ ہے۔
مستونگ کے باغات: "ریاست کے صبر کی بھی ایک حد ہے"
مستونگ میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے انگور کے باغات اور نجی جائیدادوں کے استعمال سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ایسی کارروائی نہیں چاہتی جس سے عام شہری متاثر ہوں کیونکہ دہشت گرد انسانی ڈھال استعمال کرتے ہیں، تاہم ریاست کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔ اگر سیکیورٹی فورسز کے قافلوں یا وزیر داخلہ پر کسی باغ سے حملہ ہوتا ہے تو مالکان یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں علم نہیں تھا۔ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی نجی ملکیت کا مالک بھی سہولت کار تصور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ باغات کے مالکان کو بار بار وارننگ دی جا رہی ہے؛ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو حکومت کے پاس دو آپشن ہوں گے: بڑے پیمانے پر لوگوں کو منتقل کر کے دوسری جگہ آباد کرنا، یا دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے باغات کو ختم کرنا۔ پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں کا خون انتہائی مقدس ہے، یہ قابلِ قبول نہیں کہ جوان شہید ہو اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو جبکہ کسی کی نجی جائیداد دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہے۔
تحصیلداروں کی بھرتی پر کمیٹی، "میرٹوکریسی، میرٹوکریسی اور میرٹوکریسی"
بھرتیوں سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ تحصیلداروں کی بھرتی میں ایک اندرونی غلطی ان کے نوٹس میں آئی ہے جسے درست کرنے کے لیے پبلک سروس کمیشن کے ساتھ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو سات سے دس دن میں رپورٹ پیش کرے گی اور اس سے میڈیا اور عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی پالیسی صرف میرٹ ہے، اور یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پروپیگنڈا کے ذریعے ریاست سے دور کی گئی نوجوان نسل کو دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔ پبلک سروس کمیشن ہو یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیسٹنگ سسٹم، حکومت میرٹ پر قائم رہے گی خواہ سیاسی نقصان اٹھانا پڑے۔
انہوں نے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی حالیہ بھرتیوں کا حوالہ دیا جن کے لیے ان کے حلقے سے تقریباً 20 سے 25 افراد نے درخواستیں دی تھیں، مگر ڈیرہ بگٹی کا ایک بھی امیدوار منتخب نہیں ہوا، جو ثابت کرتا ہے کہ بھرتیاں خالصتاً میرٹ پر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرٹ پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے انہیں الیکشن ہارنا پڑے تو بھی پروا نہیں؛ ریاست ان کے لیے ہر سیاسی مفاد سے زیادہ اہم ہے، حتیٰ کہ اپنی 70 سالہ والدہ سے بھی زیادہ۔ میرٹ ہی کلید ہے اور اچھی گورننس کی بنیاد بھی میرٹ پر رکھی جاتی ہے۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











