وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا اے ٹی ایف پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب: دہشت گردی کے خلاف ریاست ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گی

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے استحکام کے لیے بہادر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منظم سازش کے تحت ایک طرف ریاست کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان کا الزام بھی ریاست پر عائد کر کے انتشار پھیلانے کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ کی جانب دھکیلا جا رہا ہے، بلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی، ملک کو تقسیم کرنے کی خواہش رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ریاست ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے یہ خیالات جمعہ کو کوئٹہ میں اینٹی ٹیررسٹ فورس (ATF) ٹریننگ اسکول میں 20 ویں ٹریننگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔ تقریب سے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان اور کمانڈنٹ اے ٹی ایف اسد خان نے بھی خطاب کیا، جبکہ اس سے قبل اے ٹی ایف کے جوانوں نے انسدادِ دہشت گردی کی پیشہ ورانہ تربیت، جنگی مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔
پولیس، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی کو جدید اسٹرائیکنگ فورس بنانے کا عزم
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس، اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور اسپیشل آپریشنز ونگ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت ان فورسز کو مزید مضبوط، جدید اور مؤثر اسٹرائیکنگ فورس کی شکل دے رہی ہے۔ ان فورسز کو جدید اسلحہ، آلات، تربیت اور تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ دہشت گردی کے ناسور کا مؤثر انداز میں خاتمہ کر سکیں۔
انہوں نے اے ٹی ایف میں شامل ہونے والی تین خواتین کانسٹیبلز کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیاں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ امن، قانون کی بالادستی اور وطن کے دفاع کے لیے آگے بڑھ رہی ہیں، جو پورے معاشرے کے لیے باعثِ فخر اور دیگر نوجوان خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہدا کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کا مقدس خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ دہشت گرد عناصر بلوچستان کو ترقی، تعلیم اور خوشحالی کے سفر سے روکنا چاہتے ہیں لیکن حکومت، سیکیورٹی فورسز اور عوام کے اتحاد سے ان کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔
سیاسی جماعتوں سے اپیل: دہشت گردی کو سیاست سے نہ جوڑیں
وزیر اعلیٰ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کو سیاست سے نہ جوڑیں، کیونکہ اس وقت ریاست کو سیاست کی نہیں بلکہ ریاست کے استحکام، قومی اتحاد اور عوام کی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ دہشت گردی جیسے قومی مسئلے کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وطن کی حفاظت کے لیے شدید گرمی، سخت سردی اور مشکل حالات میں خدمات انجام دینے والے پولیس اور سیکیورٹی اہلکار پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ان کی قربانیوں کو سیاست سے جوڑنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا ہے جس سے انہیں صرف بدامنی، پسماندگی اور تعلیم و ترقی کے مواقع سے محرومی ملی ہے۔ جو لوگ ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ریاست نے ان کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں اور ان کی بحالی، تعلیم، روزگار اور سماجی انضمام کے لیے جامع منصوبہ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر کوئی بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتا ہے تو اسے کامیابی نہیں ملے گی۔ حکومت، بلوچستان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی، تشدد اور بربریت کے سامنے کبھی سرنڈر نہیں کریں گے اور اس جنگ میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
تنخواہوں میں اضافہ اور 15 کروڑ روپے کی گرانٹ
میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور ایس او ڈبلیو کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے گا، جبکہ شہدا کے خاندانوں کی مزید معاونت اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی حکومتِ بلوچستان اٹھائے گی۔
انہوں نے اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ، ٹرینرز کی بنیادی تنخواہوں میں اضافے اور فیڈنگ چارجز پر نظرثانی کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ حکومت پولیس فورس کی استعدادِ کار بڑھانے اور اسے جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل مہیا کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے پاسنگ آؤٹ کرنے والے جوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ بلا خوف و خطر عوام، صوبے اور قومی پرچم کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری سے انجام دیں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امن کے قیام کو یقینی بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











