نیتن یاہو کی نئی قومی سلامتی پالیسی جاری، نقشے میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب ‘سنی ڈائمنڈ الائنس’

یروشلم: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے عام انتخابات سے نو دن پہلے اتوار کو قومی سلامتی کی نئی ڈاکٹرائن شائع کی۔ دستاویز اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کی معاونت سے تیار ہوئی۔ بی بی سی اردو کے مطابق اس کے ساتھ جاری نقشے میں خطے کے ممالک کو اتحادی اور حریف کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
پالیسی میں خطرات کو محدود رکھنے اور دفاع پر انحصار کے بجائے روک تھام اور پیشگی حملے کو ترجیح دی گئی ہے۔ پیشگی فوجی کارروائی اور سرحد پر 'بفر زونز' کو باضابطہ طور پر قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اسلحہ و گولہ بارود میں خود انحصاری، جدید ٹیکنالوجی میں برتری اور یہود مخالف رجحانات کے خلاف جدوجہد تیز کرنا بھی اہداف میں شامل ہیں۔
نقشے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو 'ہیگزاگون الائنس' کا حصہ دکھایا گیا ہے، جس کے ساتھ یونان، ایتھوپیا اور انڈیا کے بعض حصے بھی منسلک ہیں۔ مصر اور اردن کو اسرائیلی اتحادی نہیں دکھایا گیا۔ مصر کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے 'سنی ڈائمنڈ الائنس' کا حصہ جبکہ اردن کو اس کا دوست ظاہر کیا گیا ہے۔ مکہ اتحاد میں فی الحال صرف پاکستان، ترکی اور سعودی عرب شامل ہیں۔
حزبِ اختلاف کے رہنما گادی آئزنکوٹ نے اس نظریے کو 'کھوکھلا' کہا اور سوال اٹھایا کہ یہ انتخابات سے نو دن قبل کیوں پیش کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم یائیر لپید کے مطابق یہ دستاویز حقیقی حکمتِ عملی نہیں۔ دونوں رہنماؤں کا الزام ہے کہ اس کا مقصد 7 اکتوبر کے حملے کو نہ روک سکنے کی ناکامی چھپانا ہے۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انڈپینڈنٹ العربیہ کو بتایا کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور مکہ معاہدے کے تحت رکن ممالک کے خلاف جارحیت کا اجتماعی جواب دیا جائے گا۔











