رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 15° صاف 22° / 9°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:14مغرب 17:51عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی دھمکیاں طاقت نہیں، بے بسی کی علامت ہیں: ایرانی سپریم لیڈر کے مشیرشمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان چین پہنچ گئےعمران خان کو تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان، بامعنی مذاکرات کے لیے غیر مشروط آمادگی: محمود خان اچکزئیاستنبول: 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، ایران پر فوجی کارروائی کی مخالفت اور ہرمز کھولنے کا مطالبہاسحاق ڈار آر فور اجلاسوں میں شرکت کے لیے استنبول پہنچ گئےبلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی، ترقیاتی معلومات تک عوام کی رسائی ضروری: سرفراز بگٹیڈیرہ بگٹی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی مسلسل تیسرے روز کھلی کچہری، مسائل کے فوری حل کی ہدایتمکہ، جدہ اور طائف کے لیے حوثی حملوں کا انتباہ جاری، چند منٹ بعد واپس لے لیا گیانیب کی کارروائی تیز، سہیل آفریدی ریڈار پر، سابق وزرا کا اثاثوں کا ریکارڈ طلبگورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف جے یو آئی کا اصولی مؤقف، اسلم غوری کا جمہوریت دفن کرنے کا الزامخیبرپختونخوا کے اگلے وزیراعلیٰ وفاقی حکومت کے حمایت یافتہ ہوں گے: کامران مرتضیٰٹرمپ کا دعویٰ: 250 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے پاک بھارت جنگ رکی، 11 طیارے گرائے گئے
صفحہ اول› بلوچستان ›موسیٰ خیل

موسیٰ خیل: ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع کا زرعی ادویات و کھاد کی دکانوں کا معائنہ

موسیٰ خیل: حکومت بلوچستان کے زراعت دوست وژن اور کسان خوشحالی پالیسی پر سچے جذبے سے عمل پیرا ہوتے ہوئے ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرزاق خجک کی خصوصی ہدایات پر محکمہ زراعت توسیع نے ضلع بھر میں زرعی (کھاد اور ادویات) کی معیار اور قیمتوں کی چیکنگ کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

اسی سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے مختلف مارکیٹوں اور بازاروں میں زرعی ادویات اور کھاد کے ڈیلرز اور دکانوں کا اچانک معائنہ کیا۔

معائنے کے دوران انہوں نے مختلف دکانوں پر موجود کھاد کے اسٹاک، اس کی مقررہ سرکاری نرخوں پر فروخت، اور زرعی ادویات کی معیار، رجسٹریشن اور تاریخِ تنسیخ (Expiry Date) کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع شمس الحق نے کہا کہ “حکومتِ بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خجک کی واضح ہدایات ہیں کہ ضلع کے کسانوں کو معیار اور قیمت کے معاملے میں کسی صورت تنہا یا غیر محفوظ نہ چھوڑا جائے۔ جعلی، غیر معیاری اور نالائق زرعی ادویات کی فروخت اور کھاد کی مصنوعی قلت یا گرانفروشی میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔”

ڈیلرز کو سخت تنبیہ

انہوں نے ڈیلرز کو سخت تنبیہ کی کہ تمام دکاندار سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں، کسانوں کو اصل اور رجسٹرڈ کمپنیوں کی معیاری ادویات و کھادیں فراہم کریں۔ گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی یا جعلی ادویات کی فروخت کی صورت میں قانونی کارروائی کرتے ہوئے دکانیں سیل کی جائیں گی اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

محکمہ زراعت توسیع نے زمینداروں اور کسانوں پر بھی زور دیا کہ وہ کوئی بھی زرعی دوا یا کھاد خریدتے وقت سرکاری نرخ نامہ اور پکی رسید لازمی حاصل کریں، اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا شکایت کی صورت میں فوری طور پر محکمہ زراعت یا انتظامیہ کو مطلع کریں۔