زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں: نجم مزاری

اسلام آباد: آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے زراعت کی ترقی، زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کا حصہ بڑھانے کے لیے ایمرجنسی کی طرز پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے، فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور آرگینک زراعت و مصنوعات کی برآمدات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
کلسٹرز اور ویلیو چینز کی ضرورت
نجم مزاری نے کہا کہ برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کے لیے اڑان پاکستان کے تحت تمام شعبوں میں کلسٹرز کی بنیاد پر منصوبہ بندی، ویلیو چینز کی تشکیل اور عالمی سپلائی چینز کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کو ایسے برآمدی کلسٹرز درکار ہیں جو پیداواری اداروں کو سپلائرز، ہنرمند کارکنوں، جامعات، جانچ کی تجربہ گاہوں، مالی وسائل، رسد و ترسیل کے نظام اور بین الاقوامی خریداروں سے منسلک کریں۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت زراعت کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم اس شعبے پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ملکی معیشت کو ضرورت ہے۔
زرعی شعبے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور پیداوار کے معیار کو بہتر بنا کر نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھائی جا سکتی ہے۔
آرگینک زراعت کا کردار
نجم مزاری نے کہا کہ آرگینک زراعت کو روایتی زراعت کے متبادل کے بجائے اس کی تکمیل کرنے والے شعبے کے طور پر فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ محفوظ خوراک کی پیداوار اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
آرگینک مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفکیشن، مصنوعات کی قابلِ اعتماد ٹریس ایبلٹی اور جدید جانچ کی سہولیات کو فروغ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں اور برآمدکنندگان کو آرگینک پیداوار کے جدید طریقوں، معیار برقرار رکھنے اور بین الاقوامی تقاضوں سے متعلق تربیت فراہم کی جائے، جبکہ سرٹیفکیشن کے اخراجات میں معاونت کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔











