جاپان اور امریکا کی بڑی مشترکہ فوجی مشقیں شروع، 29 اکتوبر تک جاری رہیں گی

ٹوکیو: جاپان اور امریکا کے درمیان بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقیں شروع ہو گئی ہیں، جو 29 اکتوبر تک جاری رہیں گی۔
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق کین سو رڈ نامی ان مشقوں کا دائرہ تائیوان کے قریب سمندری حدود سے جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو تک پھیلا ہوا ہے۔ ان میں جاپان کے تقریباً 45 ہزار اور امریکا کے 12 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ آسٹریلیا، جرمنی اور فرانس سمیت 7 ممالک کے فوجی اہلکاروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔
نئے ہتھیاروں کی تعیناتی
مشقوں کے دوران جاپان پہلی مرتبہ اپنے نئے ٹائپ 25 موبائل میزائل صوبہ کوماموتو میں واقع اڈے سے باہر تعینات کرے گا۔ ان میزائلوں کی مار کرنے کی صلاحیت تقریباً ایک ہزار کلومیٹر ہے۔ دونوں افواج ان ہتھیاروں کی رہنمائی اور تعیناتی میں باہمی رابطے کی مشق کریں گی، تاہم میزائل داغنے کا کوئی عملی مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔
امریکی فوج بھی پہلی مرتبہ اپنا نیوی میرین ایکسپیڈیشنری شپ انٹرڈکشن سسٹم اور میرین ایئر ڈیفنس انٹیگریٹڈ سسٹم جاپان کے جزیرے یوناغونی پر تعینات کرے گی۔ یہ نظام ڈرونز اور دیگر کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
مشقوں کی نوعیت
جزیرہ ہوکائیڈو میں بیلسٹک میزائلوں اور فضائی حملوں کو ناکام بنانے کی تربیت دی جائے گی۔ جاپان کے مختلف علاقوں میں سمندر کے راستے فوجی دستے اتارنے اور پیراشوٹ کے ذریعے اہلکاروں کو زمین پر اتارنے کی مشقیں بھی ہوں گی۔ زخمی فوجی اہلکاروں کے انخلا کے لیے باہمی رابطے کی مشق بھی کی جائے گی۔
شریک افواج خلا اور سائبر سپیس میں ہونے والے حملوں کے جواب میں کارروائیوں کی بھی مشق کریں گی۔ کین سو رڈ مشقیں ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہیں اور ان کا باری باری انعقاد امریکا اور جاپان کی مشترکہ کمانڈ پوسٹ مشقوں کین ایج کے ساتھ ہوتا ہے۔











