رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

اقوام متحدہ: دنیا میں سالانہ ایک ارب ٹن سے زائد خوراک ضائع ہوتی ہے

اقوام متحدہ: دنیا میں سالانہ ایک ارب ٹن سے زائد خوراک ضائع ہوتی ہے
فائل فوٹو: ضائع شدہ خوراک — تصویر: بشکریہ demicomposting.com

نیویارک: دنیا بھر میں ہر سال ایک ارب ٹن سے زائد خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں 645 ملین افراد بھوک کا شکار رہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق 2022 میں 1.05 ارب ٹن خوراک ضائع ہوئی، جس میں 60 فیصد حصہ گھروں، 28 فیصد ہوٹلوں اور دیگر غذائی مراکز، جبکہ 12 فیصد دکانوں کا تھا۔ اس کے علاوہ پیدا ہونے والی 13 فیصد خوراک دکانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔

فی کس ضیاع

اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق دنیا میں ہر شخص سالانہ اوسطاً 132 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔ مالدیپ میں یہ مقدار 260 کلو گرام فی کس ہے، جبکہ شام، ڈومینیکن ریپبلک، سیشلز، میکسیکو اور تیونس میں بھی سالانہ 210 کلو گرام سے زائد خوراک فی کس ضائع ہوتی ہے۔

بھوک کی صورتحال

گلوبل ہنگر انڈیکس کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں افریقا کے 309 ملین، ایشیا کے 292 ملین اور لاطینی امریکا و کیریبیئن کے 32 ملین افراد غذائی قلت کا شکار رہے۔ آٹھ ممالک میں بھوک کی صورتِ حال تشویش ناک ہے، جن میں سات افریقی ممالک شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق خوراک کا ضیاع عالمی معیشت کو سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 8 سے 10 فیصد اضافہ بھی ہوتا ہے۔

رپورٹ میں شامل ماہرین کی رائے کے مطابق خریداری سے پہلے فہرست بنانا، خوراک درست طریقے سے محفوظ کرنا، ضرورت کے مطابق کھانا پکانا اور بچا ہوا کھانا دوبارہ استعمال کرنا ضیاع کم کرنے کے مؤثر طریقے ہیں۔

موضوعات: