رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° صاف 21° / 8°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:15مغرب 17:52عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
تربت: سبزی منڈی سری کہن منتقل کرنے کے لیے دکانداروں کو چھ ماہ کی مہلتکوئٹہ ڈویژن: کمشنر ذیشان لاشاری کی صدارت میں پولیو ٹاسک فورس کا آن لائن جائزہ اجلاستربت: گھنہ مزاری کہن میں متنازعہ اراضی کے معاملات، اسسٹنٹ کمشنر کا دورہصوبائی وزیر خزانہ کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا پروگریسو جائزہ اجلاسربابہ خان بلیدی کی نیپا، بی ایس سی اے اور نیوٹیک کے حکام سے ملاقات، نصیرآباد میں تربیت پر غورنصیرآباد کے نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں پر مشیر ترقی نسواں کی ملاقاتکوئٹہ: نئے ایکسائز انسپکٹرز کے لیے تربیتی پروگرام، انسدادِ منشیات کے قوانین پر نشستچمن: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول محلہ شہسوار کا اچانک دورہاوستہ محمد: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ریویو اجلاس، شکایات کے پائیدار حل کی ہدایتجعفرآباد: ڈپٹی کمشنر خالد خان کی صدارت میں امن و امان کے تین اجلاسموسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ جج کا تحصیل درگ جوڈیشل کمپلیکس کا دورہنصیرآباد: 309 ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کا جائزہ، ٹرانسفارمر واپسی پر نوٹسز کی ہدایت

اسحاق ڈار کی انتونیو گوتریس سے ملاقات، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا

اسحاق ڈار کی انتونیو گوتریس سے ملاقات، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا

اسلام آباد (اعتماد ڈیسک): نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، انسداد دہشت گردی اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سمیت علاقائی و عالمی معاملات پر بات چیت کی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے سیکرٹری جنرل کو جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا اور کشمیر تنازع کے سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پرامن حل کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

نائب وزیراعظم نے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا، جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات میں پاکستان کی سہولت کاری بھی شامل ہے۔ انہوں نے مکالمے اور سفارت کاری کو تنازعات کے حل کا مؤثر ترین ذریعہ قرار دیا۔