وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا جشنِ آزادی کی گرینڈ تقریب سے خطاب: بندوق کا راستہ بلوچستان کو ترقی نہیں دے سکتا

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کی آزادی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے اور ملک کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے پاک فوج، فرنٹیئر کور بلوچستان، پولیس اور سول اداروں کے افسران و اہلکاروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، اور شہداء کے خاندانوں کا غم پوری قوم کا مشترکہ غم ہے۔
وہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 79ویں جشنِ آزادی کی مناسبت سے منعقدہ گرینڈ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں اراکینِ سینیٹ و قومی اسمبلی، سندھ اور گلگت بلتستان کے وزراء، دیگر صوبوں سے آئے معزز مہمانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ نے خطاب کے آغاز میں قیامِ پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء، پاک فوج، فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ و ساؤتھ، بلوچستان پولیس اور سول سوسائٹی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی۔ تقریب کے آغاز میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کے جواں سال صاحبزادے ثناء اللہ اچکزئی کے ایصالِ ثواب کے لیے بھی دعا کی گئی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آج کا دن یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ہمیں عظیم قربانیوں کے بعد ملا اور اس کی حفاظت، سلامتی اور ترقی کے لیے آج بھی قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سول افسران و اہلکار بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے شہداء کے خاندانوں کو یقین دلایا کہ ان کا غم پوری قوم کا مشترکہ غم ہے۔
ریاست مخالف عناصر کو دوٹوک پیغام
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستِ پاکستان اور حکومتِ بلوچستان نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ تشدد اور بندوق کا راستہ بلوچستان کو ترقی کی جانب نہیں لے جا سکتا؛ اس راستے نے صوبے کو پسماندگی، محرومی اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران صرف گوادر میں 515 ارب روپے خرچ کیے گئے، اس کے باوجود اگر کوئی چیز بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے تو وہ تشدد اور بدامنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ بندوق کا راستہ اختیار کر چکے ہیں وہ ریاستِ پاکستان کو تسلیم کریں اور قومی دھارے میں واپس آئیں، کیونکہ ریاست کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں، تاہم مسافروں، اساتذہ، مزدوروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر بلوچستان میں مکمل امن قائم کرے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ معصوم شہریوں کو قتل کرنا بلوچ روایات نہیں۔ بسوں سے مسافروں کو اتار کر خواتین اور بچوں کے سامنے قتل کرنا نہ بلوچ اقدار ہیں اور نہ کسی مہذب معاشرے کا عمل۔ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو صدیوں پہلے خوارج قرار دیا جا چکا ہے، اسی طرح بلوچ قوم پرستی کے نام پر معصوم انسانوں کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کا بلوچیت اور بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گرد عناصر غریب بلوچ نوجوانوں کو ورغلا کر پہاڑوں پر لے جاتے ہیں جبکہ ان کے اپنے بچے بیرونِ ملک آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ بلوچستان کی بچیوں کے لیے آکسفورڈ اور ہارورڈ سمیت عالمی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے گئے ہیں اور 10 ہزار سے زائد اسکالرشپس دی گئی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے روزگار اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، طالبات کے لیے پنک اسکوٹیز اور گرین بس سروس متعارف کرائی گئی ہے، جبکہ 99 فیصد بند اسکول دوبارہ فعال کیے جا چکے ہیں۔ حکومت میرٹ پر بھرتیاں یقینی بنا رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے بھرتی کے عمل میں شفافیت لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست بلوچستان کے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ حکومت سے کسی کو شکایت یا گلہ ہو تو اس کی سزا ریاست اور پاکستان کو نہیں دی جانی چاہیے؛ اختلافات کا حل مکالمے، آئین اور جمہوری عمل میں ہے، بندوق میں نہیں۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں کسی پنجابی کے قتل کو بلوچوں سے جوڑنا درست نہیں۔ بلوچ مہمان نواز قوم ہے اور دہشت گردی کا کسی قوم یا نسل سے تعلق نہیں؛ دہشت گرد کی کوئی قوم نہیں ہوتی اور دہشت گردی کو کسی قوم سے منسوب کرنا دشمن کی سازش ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جشنِ آزادی کی گرینڈ تقریب میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ نسلی اور لسانی تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں دشمن کی چال ہیں جنہیں بلوچستان کے عوام کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہماری پہلی شناخت پاکستانی ہے، اس کے بعد ہم بلوچ، پشتون، سندھی یا پنجابی ہیں۔ پاکستان ایک مضبوط ملک اور ایٹمی طاقت ہے، اس کی مسلح افواج منظم اور باصلاحیت ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
خطاب کے اختتام پر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستانی قوم متحد ہو کر ملک کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی اور پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











