گوادر: سوڈ ڈیم کا ذخیرہ دو سے تین ماہ کا رہ گیا، شادی کور ڈیم سے سپلائی فعال؛ ڈی جی جی ڈی اے کا واٹر سیکشن اجلاس

گوادر: ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان کی زیر صدارت واٹر سیکشن کا اجلاس ہوا، جس میں شہر میں پانی کی فراہمی، آبی ذخائر، ڈسٹری بیوشن، بلنگ اور ریکوری کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پی ڈی واٹر میر جان، ڈائریکٹر فنانس عبدالشکور بلوچ اور ایگزیکٹو انجینئر ڈسٹری بیوشن محمد اکبر بلوچ سمیت متعلقہ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سوڈ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور موجودہ ذخیرہ تقریباً دو سے تین ماہ کے لیے کافی ہے۔ مسلسل فراہمی کے لیے شادی کور ڈیم سے بھی سپلائی فعال کر دی گئی ہے اور دونوں ذرائع سے روزانہ تقریباً 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے آبی ذخائر کو مؤثر انداز میں مینج کرنے اور تمام متبادل ذرائع بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔
چین کی جانب سے فراہم کردہ 1.2 ایم جی ڈی ڈی سیلینیشن پلانٹ کا بھی جائزہ لیا گیا اور اسے مکمل استعداد پر چلانے کے لیے گوادر پورٹ حکام سے ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایک سال کی کارکردگی اور واجبات
اجلاس میں شہر کو پانی کی فراہمی کی ذمہ داری سنبھالنے کے تقریباً ایک سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اطمینان ظاہر کیا گیا کہ گزشتہ سال کے بحران اور بعد کی معمول کی صورتحال میں بھی شہر کو مؤثر انداز میں پانی فراہم کیا گیا اور کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔
بلنگ اور ریکوری پر غور کے دوران بتایا گیا کہ نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم کے ذمے جی ڈی اے کے پانی کے تقریباً 157 ملین روپے واجب الادا ہیں۔ متعلقہ شعبے کو بڑے صارفین اور سرکاری اداروں سے واجبات کی وصولی کی ہدایت کی گئی۔ شادی کور ڈیم کا پمپنگ اسٹیشن بجلی نہ ہونے کے باعث 24 گھنٹے ڈیزل پر چلنے سے اخراجات بڑھ گئے ہیں، اس لیے شہریوں سے پانی کے استعمال میں کفایت شعاری اور بلوں کی بروقت ادائیگی کی اپیل کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ شادی کور ٹرانسمیشن لائن سے منسلک متعدد دیہات میں طویل عرصے سے جاری پانی کی قلت کا مسئلہ حل کر کے سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور شہری و دیہی آبادیوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











