جیکب آباد سم نالہ تنازع: بلوچستان کا این او سی کے بغیر تعمیر سے انکار، کام بند رکھنے کی یقین دہانی

جیکب آباد: سندھ اور بلوچستان کے درمیان جیکب آباد کے متنازعہ سم نالے کا معاملہ سلجھانے کے لیے کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کے احکامات کی روشنی میں بلوچستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے ڈپٹی کمشنر آفس جیکب آباد کا دورہ کیا، جہاں ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی کی سربراہی میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔
بلوچستان کے وفد میں ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین، سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل مدثر ظفر کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور سیف الدین کھوسہ، سب ڈویژنل افسران امان اللہ گاجانی، عابد علی کھوسہ، امتیاز علی کھوسہ اور دیگر افسران شریک تھے۔
بلوچستان کا موقف
اجلاس میں سندھ ایریگیشن حکام نے متنازعہ جیکب آباد سم نالے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین اور سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے بلوچستان کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2010 اور 2022 کے تباہ کن سیلاب سے بلوچستان کے اضلاع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، اس لیے مین حیردین ڈرینج میں سندھ کا مزید اضافی پانی شامل کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحفظات دور کیے بغیر بلوچستان اپنی حدود میں متنازعہ سم نالے کی تعمیر کی اجازت نہیں دے گا۔ تعمیراتی کام بلوچستان کی سرحد کے قریب پہنچنے کے باوجود سندھ حکام نے تاحال بلوچستان سے این او سی حاصل نہیں کیا جو بے اعتمادی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مین حیردین ڈرینج بلوچستان کے اپنے پانی کے اخراج کی بھی مکمل گنجائش نہیں رکھتا، ایسے میں سندھ کا اضافی پانی بلوچستان کے اضلاع کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے، جبکہ سندھ حکام پہلے ہی آر بی او ڈی کے مقام پر ڈرینج سسٹم کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکام کو بلوچستان کے تمام تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا اور بین الصوبائی گفت و شنید کے بعد ہی بلوچستان کی حدود میں کام کروایا جائے گا، اور اس وقت تک متنازعہ سم نالے کا تعمیراتی کام بند رکھا جائے گا۔


تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











