بلوچستان نے پہلی بار 114 فیصد ترقیاتی فنڈز استعمال کیے: صوبائی وزیر ظہور بلیدی کی پریس بریفنگ

کوئٹہ: صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام میں گزشتہ دو برس کے دوران تاریخی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن سے ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئی اور صوبہ پہلی مرتبہ 114 فیصد ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی سطح تک پہنچا، جو بلوچستان کی بڑھتی ہوئی استعدادِ کار کا واضح ثبوت ہے۔
وہ منگل کو محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کارکردگی سے متعلق پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم بھی موجود تھے۔
پہلی سالانہ پیش رفت رپورٹ اور ڈیجیٹل نظام
میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ سالانہ پیش رفت رپورٹ جاری کی ہے، جس میں گزشتہ ڈھائی سال کے ترقیاتی پروگرام، کامیابیوں، ادارہ جاتی اصلاحات، پالیسی اقدامات اور ریگولیٹری ریفارمز کو جامع انداز میں مرتب کیا گیا ہے تاکہ عوام اور متعلقہ اداروں کو صوبے کی ترقیاتی کارکردگی سے آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران محکمہ نے پی ایس ڈی پی کو مکمل طور پر آٹومیٹ کیا ہے۔ اب ترقیاتی منصوبوں کی آن لائن سبمیشن، خودکار منظوری کے مراحل، ڈیٹا انٹیگریشن اور دیگر تمام امور ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں۔ ایک خصوصی موبائل ایپ بھی تیار کی گئی ہے جس کے ذریعے پی اینڈ ڈی کے افسران اور متعلقہ حکام کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی سائٹ پر جا کر اس کی مکمل معلومات فوری حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ تقریباً تمام منصوبوں کی یونین کونسل کی سطح تک جیو ٹیگنگ بھی مکمل کی جا چکی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ ماضی میں اکثر منصوبوں کی فیزیبلٹی کمزور ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے تھے، تاہم اب ماہرین کی خدمات حاصل کرکے ڈیٹا اینالیسز کا نظام مضبوط بنایا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ صوبائی شماریاتی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ لانچ کیا گیا ہے اور 2010 سے 2023 تک کے سماجی و اقتصادی اشاریوں پر مبنی رپورٹ بھی شائع کی گئی ہے، جس میں گزشتہ 13 برس میں بلوچستان کی ترقی، اس کے رجحانات اور عوام تک پہنچنے والے فوائد کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ طویل عرصے سے غیر فعال مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ کو دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ ٹیموں نے 2022 ترقیاتی منصوبوں کے دورے کیے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 378 فیصد اضافہ ہے، تاکہ منصوبے صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی بروقت تکمیل، فنڈز کے درست استعمال اور عوام تک حقیقی فوائد کی فراہمی کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔
249 ارب کے مقابلے میں 283 ارب روپے خرچ
صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال صوبائی پی ایس ڈی پی میں مجموعی طور پر 6 ہزار 728 ترقیاتی اسکیمیں شامل تھیں، جن میں 3 ہزار 758 جاری اور 2 ہزار 970 نئی اسکیمیں تھیں۔ ان کے لیے 249 ارب روپے کا ترقیاتی حجم مختص کیا گیا تھا، تاہم موثر منصوبہ بندی اور انتظامی اصلاحات کے باعث 283 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو 114 فیصد فنڈز کے استعمال کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں وفاقی بیوروکریسی اور دیگر حلقوں کا تاثر تھا کہ بلوچستان اپنی ترقیاتی فنڈز کی استعدادِ کار کو 50 سے 70 فیصد سے آگے نہیں لے جا سکتا، لیکن موجودہ حکومت کی اصلاحات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ بلوچستان کی ترقیاتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اسے مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
میر ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے 206 ارب روپے کی صوبائی پی ایس ڈی پی منظور کی گئی ہے، جس میں سب سے زیادہ فنڈز محکمہ مواصلات و تعمیرات کو، اس کے بعد محکمہ آبپاشی اور تیسرے نمبر پر محکمہ تعلیم کو مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں محکمہ تعلیم کو نظر انداز کیا جاتا رہا، تاہم موجودہ حکومت نے تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے اسے تیسرے نمبر پر پہنچایا ہے، اور اسکولوں کی اپ گریڈیشن، مسنگ سہولیات، واش پروگرام کے ذریعے بنیادی سہولیات اور معیاری تعلیم کے لیے درکار تمام وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری زاہد سلیم کی بریفنگ
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم نے کہا کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی بنیادی ذمہ داری ترقیاتی منصوبہ بندی، منصوبوں کی تیاری، جانچ پڑتال، منظوری اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ گزشتہ دو برس میں منصوبوں کی تیاری، اپریزل اور منظوری کے نظام میں نمایاں اصلاحات کی گئیں اور بروقت عملدرآمد اور فنڈز کے موثر استعمال کو یقینی بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 249 ارب روپے کے مقابلے میں 283 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس اور بالخصوص مالی سال 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ کو موثر اور فعال بنایا گیا۔ پی اینڈ ڈی کے آٹومیشن سسٹم کے تحت تمام پی سی ون مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر دیے گئے ہیں؛ اب کسی بھی منصوبے کی ہارڈ کاپی تیار نہیں ہوتی بلکہ تمام مراحل آن لائن مکمل کیے جاتے ہیں۔
زاہد سلیم نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال ایم اینڈ ای ونگ نے 2022 ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا اور متعلقہ محکموں کو خامیوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ 30 جون تک 45 منصوبوں پر اصلاحی کارروائی باقی تھی، تازہ ترین جائزے کے مطابق ان میں سے 40 پر کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور اب صرف پانچ منصوبے باقی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال مکمل ہونے والی 3 ہزار 20 ترقیاتی اسکیموں کو تصدیق کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے گراؤنڈ ویری فکیشن کے لیے بھیجا گیا۔ ابتدائی طور پر 32 منصوبوں میں خامیاں سامنے آئیں، تاہم تازہ ترین جائزے کے مطابق صرف ایک منصوبہ، جو پنجپائی کا ہے، نامکمل پایا گیا، جسے مزید کارروائی کے لیے سی ایم آئی ٹی اور اینٹی کرپشن کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے پہلی مرتبہ بلوچستان کے 2010 سے 2023 تک کے سماجی و اقتصادی اشاریوں کا تجزیہ کیا ہے اور دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب اور سندھ کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی تیار کیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں کا جامع ڈیٹا بھی مرتب کیا گیا ہے اور اس وقت محکمہ کے پاس 2 لاکھ 39 ہزار امیدواروں کا ضلع وار، صنفی اور تعلیمی بنیادوں پر مکمل ریکارڈ موجود ہے، جس کی مدد سے روزگار اور لائیولی ہڈ پروگرامز کو زیادہ موثر اور ہدفی بنیادوں پر تشکیل دیا جا رہا ہے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











