کوئٹہ میں گوشت فروشوں اور تندوروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 48 افراد گرفتار، 35 جیل منتقل

کوئٹہ: عوامی شکایات اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی ہدایات پر ضلع بھر میں گوشت فروشوں اور تندوروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ کارروائیوں کے دوران کم وزن روٹی اور مہنگے داموں گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے گئے اور مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 48 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 35 افراد کو جیل منتقل کر دیا گیا، جبکہ متعدد دکانداروں کو سخت وارننگ جاری کی گئی۔
کس علاقے میں کتنی گرفتاریاں
اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی نے نواں کلی اور عالمو چوک میں کارروائیاں کرتے ہوئے 12 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سٹی اور اسپیشل مجسٹریٹ اعجاز حسین کھوسہ نے گوالمنڈی اور کاسی روڈ پر کارروائیوں کے دوران 14 افراد کو گرفتار کیا۔
اسسٹنٹ کمشنر کچلاک کیپٹن (ر) کبیر زرکون نے کچلاک بازار میں کارروائی کرتے ہوئے 10 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد اچکزئی اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ نے سب ڈویژن سریاب میں کارروائیاں کر کے 12 افراد کو گرفتار کیا۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی، مہنگے داموں گوشت فروخت کرنے، کم وزن روٹی دینے اور دیگر ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











