رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 21° صاف 23° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:11مغرب 17:47عشا 19:08
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
آئی سی سی ون ڈے رینکنگ: ٹاپ 5 بیٹرز میں پاکستانی شامل نہیں، بابراعظم نویں نمبر پر چلے گئےاٹھائیسویں ترمیم کا مسودہ تیار نہیں ہوا، تمام جماعتوں سے مشاورت ہوگی: اعظم نذیر تارڑگندم کی دستیابی اور درآمدی منصوبہ بندی پر سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رکھنے کی ہدایتچین دوستی ہاکی سیریز: پاکستان جونیئر ٹیم نے گوانگ ڈونگ کو 5-2 سے ہرا دیاکیپ ٹاؤن ٹیسٹ: اسٹارک کی 72 رنز کے عوض 6 وکٹیں، جنوبی افریقا 329 پر آؤٹوزیر دفاع خواجہ آصف کی سعودی سفیر سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیالخیبرپختونخوا میں گورنر راج چھ ماہ بعد ختم ہوگا، امن بحال ہونے تک ایمرجنسی رہے گی: طارق فضل چوہدریریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی اور دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاریمحمد احمد: پہلی ٹیلی فلم پر پابندی نے کیریئر کا رخ بدل دیاگلوبل لیزر رن: سی ایم پنجاب سپورٹس اکیڈمیز کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں تقریبمیری کوم: ان کی بائیوپک میں جدوجہد کا صرف 10 فیصد دکھایا گیاحارث رؤف کو 20 فیصد اور انگلینڈ کو 15 فیصد جرمانہ

فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں کی یوکرین جنگ پر پوٹن سے 90 منٹ طویل نادر ٹیلیفونک گفتگو

فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں کی یوکرین جنگ پر پوٹن سے 90 منٹ طویل نادر ٹیلیفونک گفتگو
فائل فوٹو: فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب — تصویر: بشکریہ euronews.com

ہیلسنکی: فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں نے منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے مشترکہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ کسی روسی صدر اور یورپی رہنماؤں کے درمیان اس طرح کا براہ راست رابطہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔

فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے نے ہیلسنکی سے 90 منٹ طویل کال کا آغاز کیا۔ ان کے دفاتر کے مطابق مقصد روس کی یوکرین کے خلاف جنگ، اسے ختم کرنے کی سفارتی کوششوں اور یورپ میں امن و استحکام کے فروغ پر بات چیت کرنا تھا۔

اسٹب نے گفتگو کو “واضح اور بامعنی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا: “ہم روس کے پڑوسی ممالک ہیں۔ اس جنگ کے نتائج ہماری اور وسیع تر یورپی سلامتی پر براہ راست اثر ڈالیں گے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے براہ راست مذاکرات ضروری ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن “خاموشی کے ذریعے” حاصل نہیں ہو گا۔

اسٹورے نے کہا کہ جنگ کی “بے پناہ انسانی اور مادی قیمت” چکانا پڑ رہی ہے اور اس کی تکلیف اور تباہی نسلوں تک اثر انداز ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پوٹن کے ساتھ “نقطہ نظر میں بڑے اختلافات” ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ یوکرین کے لیے ان کی حمایت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ روس کے پڑوسیوں کی حیثیت سے بات کر رہے تھے، پورے یورپ کی طرف سے نہیں۔ اسٹورے نے کہا: “ہم نے اپنے سوا کسی اور کی طرف سے بات کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔”

اسٹب نے کہا کہ کال کی تیاری یوکرین اور امریکا کی مشاورت سے کی گئی۔ یہ کال 20 اکتوبر کو اوسلو میں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی، نورڈک رہنماؤں اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ہوئی۔

کریملن نے کہا کہ پوٹن نے ان سے کہا کہ منصفانہ اور پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب روس کے جائز مفادات کو مکمل اور غیر مشروط طور پر مدنظر رکھا جائے۔ اس کے مطابق یورپی یونین اور نیٹو ممالک کی اس پالیسی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی جسے اس نے محاذ آرائی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ اس سے لڑائی طول پکڑ رہی ہے۔ بی بی سی کے مطابق، تینوں فریقوں نے مبینہ طور پر براہ راست ٹیلیفونک رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

بعد ازاں نورڈک رہنماؤں نے زیلنسکی کو بریفنگ دی۔ یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے کہا کہ کال کیف کے ساتھ ہم آہنگی سے کی گئی تھی اور یہ “درست طریقہ” ہے۔

یورپ میں ردعمل ملا جلا رہا۔ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ وہ پوٹن سے رابطہ کرنے کے بارے میں “بہت شکوک” رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا: “میرے خیال میں یورپ کو اکیلے چلنے کے بجائے متحد رہنا چاہیے۔” سویڈن کے وزیراعظم الف کرسٹرسن نے کہا کہ روس کے ساتھ جرمنی اور فرانس کی سابقہ بات چیت کے نتائج “بہت معمولی” رہے۔

اسٹب کی نیشنل کولیشن پارٹی سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمان کے رکن میکا آلٹولا نے ماسکو کے لیے “پروپیگنڈا قدر” کے خطرے سے خبردار کیا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ یورپی ممالک محض آئندہ مذاکرات میں کردار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ اسٹب نے انہیں بتایا کہ ابوظہبی میں مجوزہ مذاکرات کے بارے میں یورپ کا موقف “معتدل طور پر پُرامید” ہے۔ سال کے آغاز کے بعد امریکا، یوکرین اور روس کے درمیان پہلے مذاکرات وہاں عارضی طور پر نومبر کے اوائل میں طے ہیں۔

منگل کو بھی روسی حملے جاری رہے۔ کیف کے حکام نے بتایا کہ رات بھر کے حملوں میں، جن میں 16 بیلسٹک میزائل اور 280 سے زائد ڈرونز استعمال ہوئے، شہر کا ساؤتھ برج نشانہ بنا۔ زیلنسکی نے اسے “ہماری لاجسٹکس کو نشانہ بنانے کی روسی مہم میں سنگین شدت” قرار دیا۔

اسٹب اور اسٹورے جولائی 2025 میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بعد پوٹن سے بات کرنے والے پہلے یورپی رہنما ہیں۔