سعودی اتحاد کا مدینہ ریجن اور مشرقی علاقوں کی جانب بڑھنے والے پانچ ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ

ریاض: یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سرگرم سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ مدینہ ریجن اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کی جانب بڑھنے والے پانچ ڈرونز کو فضا میں تباہ کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر اپنے پہلے پیغام میں چار ڈرونز روک کر تباہ کرنے کا بتایا، جبکہ بعد کے ایک پیغام میں مشرقی حصے کی طرف آنے والا پانچواں ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا۔ ترجمان نے ڈرونز کے ماخذ یا کسی ممکنہ نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی بڑھنے کے بعد سے ریاض حوثیوں پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ ایک روز قبل برطانوی حکومت نے سعودی دفاع کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی چینل الاخباریہ کو منگل کے روز دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب یا حوثی تحریک نے لڑائی ختم کرانے کے لیے ایران کی ثالثی کی پیشکش کا تاحال جواب نہیں دیا۔ مصر کی جانب سے سعودی عرب کی مدد کے بیان پر انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بیرونی مداخلت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔
دوسری جانب حوثیوں کے خلاف ممکنہ مصری فوجی کارروائی پر مصری پارلیمان میں رائے شماری 26 اکتوبر تک مؤخر کر دی گئی ہے۔ ترک حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ سات اگست کو طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کا بل پارلیمان کے سپیکر کو جمع کرا دیا ہے، جبکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر فوجی دستے نہیں بھیجے گا۔











