کوئٹہ: قمبرانی روڈ کے علاقوں کی خواتین کا گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ: قمبرانی روڈ، لاشار آباد، توحید آباد، مرشد آباد اور عصمت آباد کی رہائشی خواتین نے کہا ہے کہ 2017ء میں منظوری اور سروے کے باوجود ان علاقوں میں گیس پائپ لائن کا کام التوا کا شکار ہے، جس کے باعث مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
زر جان بلوچ نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں علاقے کی دیگر خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کی ایما پر کام روکا گیا ہے۔ ان کے مطابق بل جمع کرانے کے باوجود مکین گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔
خواتین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ حکام نوٹس لے کر فوری طور پر ترقیاتی کام شروع کریں اور سردیوں میں گیس کی فراہمی ممکن بنائیں۔
منصوبے کی تفصیل
انہوں نے کہا کہ ان کا علاقہ کوئٹہ شہر کا گنجان آباد علاقہ ہے جہاں ہزاروں خاندان آباد ہیں۔ بنیادی سہولیات، بالخصوص گیس سے محرومی کے باعث وہ بادلِ نخواستہ قبائلی صوبے اور معاشرے میں اپنے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے آواز حکام بالا تک پہنچانے میڈیا کے پاس آئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2017ء میں علاقے کی 2 انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو 6 انچ قطر کی پائپ لائن میں تبدیل کرنے کا منصوبہ منظور ہوا، کھدائی شروع ہوئی اور پائپ پہنچائے گئے، لیکن 7 سال گزرنے کے باوجود منصوبہ التوا کا شکار ہے۔
خواتین کے مطابق بعض مقامی لوگ اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ وہ میڑھ لے کر جرگے کی شکل میں ان لوگوں کے پاس گئیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے، رکاوٹ ڈالنے والوں کا محاسبہ کیا جائے اور منصوبہ فوری مکمل کر کے گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
خواتین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف جسٹس بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملا خیل، کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل عنایت حسین، آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سے مسئلے کا نوٹس لے کر حل کا مطالبہ کیا۔











