ہرنائی کے گاؤں قلات غواژہ میں چکن پاکس کے 57 کیسز، محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کی ہنگامی ٹیم متحرک

ہرنائی: تحصیل ہرنائی کے گاؤں قلات غواژہ اور اس کے گرد و نواح میں چکن پاکس (لاکڑا کاکڑا)، جلدی انفیکشن اور خسرہ کے مشتبہ کیسز سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی (PPHI) کی مشترکہ ہنگامی ٹیم نے متاثرہ علاقے کا تفصیلی دورہ کیا۔ ٹیم نے درجنوں مریضوں کا معائنہ کیا، مفت ادویات فراہم کیں اور بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم کا آغاز کر دیا۔
سوشل میڈیا اور علاقے کے معززین کی جانب سے بخار اور جسم پر دانے نکلنے کے کیسز کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ہرنائی ڈاکٹر شعیب اکرم مینگل کی ہدایت پر ڈزیز سرویلنس آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ اور ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ہرنائی عالمگیر خان اچکزئی پر مشتمل ٹیم نے قلات غواژہ کا دورہ کیا۔
فیلڈ انویسٹی گیشن میں سامنے آنے والے کیسز
فیلڈ انویسٹی گیشن کے دوران چکن پاکس کے کل 57 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں اکثریت 3 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی ہے۔ خارش کی وجہ سے 10 سال سے کم عمر کے 15 بچوں کے دانوں میں ثانوی بیکٹیریل انفیکشن (امپیٹیگو) کی تصدیق ہوئی، جبکہ 5 سال سے کم عمر کے 2 بچوں میں خسرہ کی علامات پائی گئیں، جن کی مزید نگرانی کی جا رہی ہے۔
طبی ٹیم نے تمام 57 متاثرہ بچوں کا طبی معائنہ کیا اور بخار، خارش اور دانوں کی سوزش کم کرنے کے لیے اینٹی ہسٹامائن، پیراسیٹامول اور کیلامائن لوشن مفت فراہم کیے۔ جلدی انفیکشن کا شکار 15 بچوں کو اینٹی بائیوٹک مرہم (Ointments) اور صفائی کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی گئیں۔
والدین کے لیے احتیاطی ہدایات
ہیلتھ ٹیم نے علاقے کے معززین، ماؤں اور بچوں کے ساتھ خصوصی آگاہی نشست کا انعقاد کیا۔ ڈاکٹر زاہد اللہ اور عالمگیر خان اچکزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چکن پاکس کے مریض بچوں کو دانوں کے خشک ہونے تک (کم از کم 5 سے 7 دن) گھروں میں قرنطینہ (Isolation) میں رکھا جائے، اور متاثرہ بچے صحت یابی تک اسکول یا مدرسے نہ جائیں تاکہ دیگر بچے اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ بچوں کے ناخن چھوٹے رکھے جائیں تاکہ خارش کی وجہ سے جلد پر زخم نہ بنیں اور انفیکشن نہ پھیلے، ذاتی صفائی اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کا خاص خیال رکھا جائے، اور علاقے میں بخار یا جسم پر دانوں کی کوئی بھی نئی علامت ظاہر ہونے پر فوری طور پر ہیلتھ حکام کو اطلاع دی جائے۔
محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور متاثرہ علاقے کی مسلسل سرویلنس (نگرانی) کی جا رہی ہے۔ مقامی آبادی کے تعاون سے بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











