تربت: سول ہسپتال کے سات میڈیکل اسٹورز کی الاٹمنٹس غیر قانونی قرار، ڈپٹی کمشنر کیچ کا منسوخی کا حکم

تربت: ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کیچ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات، عملے کی حاضری، ادویات کی دستیابی، ترقیاتی امور، غیر قانونی الاٹمنٹس اور عوام کو درپیش صحت کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ، ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر وحید بلیدئی اور ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرتضیٰ بلوچ سمیت افسران نے شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ملازمین کی غیر حاضری، انتظامی غفلت اور ترقیاتی امور میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی اور تنخواہوں سے کٹوتی یقینی بنائی جائے۔
میڈیکل اسٹورز کی الاٹمنٹس منسوخ
اجلاس میں سول ہسپتال تربت کے سات میڈیکل اسٹورز کی الاٹمنٹس کا معاملہ زیرِ بحث آیا، جنہیں ڈپٹی کمشنر نے غیر قانونی قرار دے کر فوری منسوخی کی ہدایت کی اور کہا کہ الاٹمنٹ کا عمل دوبارہ باقاعدہ اشتہار کے ذریعے شفاف انداز میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تمام غیر قانونی الاٹمنٹس کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی ہدایت بھی کی۔
سٹی اسکین اور ایم آر آئی کے اخراجات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے غریب اور مستحق مریضوں کے لیے فیس میں کمی کے اقدامات کی ہدایت کی۔ سول ہسپتال تربت میں ادویات کی عدم دستیابی کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے محکمہ صحت کوئٹہ کے حکام سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ضروری ادویات کی فوری فراہمی اور تربت منتقلی کے احکامات جاری کیے۔
اجلاس میں ڈاکٹروں اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کے خلاف کارروائی کے لیے سیکریٹری صحت کو بھیجی گئی سفارشات کا حوالہ بھی دیا گیا، جبکہ ویکسینیشن اسٹاف کی کمی پوری کرنے کے لیے جلد بھرتیوں کا عمل شروع کرنے سے آگاہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ہسپتالوں میں سہولیات، صفائی، ادویات اور عملے کی حاضری کی مؤثر نگرانی اور فیصلوں پر بروقت عمل درآمد کی ہدایت کی۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











