رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 15° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

ماں اور بچے کی صحت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں: ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی

ماں اور بچے کی صحت کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں: ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین، ماؤں اور بچوں کی صحت بہتر بنائے بغیر حقیقی اور پائیدار ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسینشل پیکج آف ہیلتھ سروسز بلوچستان بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے، جس میں زچہ و بچہ کی صحت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جغرافیائی پھیلاؤ، دشوار گزار علاقوں اور طبی سہولیات تک رسائی کے مسائل کے باعث حمل کے دوران خواتین کو بروقت طبی نگہداشت کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے، اس لیے ہر حاملہ خاتون کو Antenatal Care (ANC)، باقاعدہ طبی معائنہ، بلڈ پریشر اور ہیموگلوبن کی جانچ، غذائی مشاورت، آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹیشن اور خطرے کی علامات کی بروقت تشخیص فراہم کی جائے۔

محفوظ زچگی اور نومولود کی نگہداشت

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ محفوظ زچگی کے لیے Skilled Birth Attendance بنیادی اہمیت رکھتی ہے؛ ہر زچگی تربیت یافتہ اور مستند طبی عملے کی نگرانی میں ہو اور پیچیدہ کیسز کے لیے بنیادی مراکز صحت سے تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں تک مؤثر Referral System موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ Postpartum Hemorrhage، Hypertensive Disorders of Pregnancy اور Sepsis جیسی پیچیدگیاں ماں کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اس لیے مراکز صحت پر ضروری ادویات، آلات اور تربیت یافتہ عملے کی دستیابی ناگزیر ہے، جبکہ Newborn Care، Early Breastfeeding، Thermal Care اور Neonatal Resuscitation کو بنیادی صحت کے نظام کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحت کا آغاز ماں کی صحت اور حمل کے دوران غذائی نگہداشت سے ہوتا ہے؛ کم وزن، غذائی کمی اور خون کی کمی کا براہ راست اثر نومولود پر پڑتا ہے، اس لیے Maternal Nutrition، Breastfeeding، Immunization اور Growth Monitoring کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا ضروری ہے۔

صوبائی مشیر نے کہا کہ RMNCH سروسز کو بنیادی مراکز صحت کی سطح پر مضبوط بنانا حکومت کی ترجیح ہونا چاہیے۔ 164 بنیادی مراکز صحت کا فعال ہونا اہم پیش رفت ہے، تاہم اصل کامیابی تب ہوگی جب ان مراکز پر ادویات، تشخیصی خدمات اور تربیت یافتہ ہیلتھ کیئر ورکرز مستقل دستیاب ہوں۔ انہوں نے Community Health Workers اور Lady Health Workers سمیت فرنٹ لائن ہیلتھ اسٹاف کی استعداد کار بڑھانے پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ سمجھتی ہیں کہ بہترین پالیسی وہی ہے جس کے نتائج ماں اور بچے کی صحت کے اشاریوں میں نظر آئیں، اور کامیابی کا معیار صرف نئے مراکز کا قیام نہیں بلکہ Maternal Mortality، Neonatal Mortality اور Infant Mortality میں کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ہر ماں کو معیاری طبی نگہداشت، محفوظ زچگی اور ہنگامی صورت میں بروقت علاج کا حق حاصل ہے، اور حکومت بلوچستان محکمہ صحت اور تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان