2035 تک برآمدات 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف، رانا احسان افضل کا پی آئی ڈی سی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صنعت و تجارت رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافے اور ترسیلات زر کی بہتری کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
جمعہ کو پی آئی ڈی سی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت 2035 تک پاکستان کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ درمیانی مدت میں برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت بنانے کے لیے جامع اصلاحات جاری ہیں۔
اصلاحات اور مراعات
رانا احسان افضل کے مطابق قومی ٹیرف پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد تک لائی جائے گی اور تقریباً 7500 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹیوں میں اصلاحات جاری ہیں۔ کاروباری سہولت کے لیے 500 ریگولیٹری تقاضوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد برآمدی لاگت کم کرنا اور تجارتی سہولتیں بڑھانا ہے۔
ایس ایم ای فنانسنگ کو دو ہزار ارب روپے تک بڑھانے پر کام جاری ہے، جبکہ برآمدکنندگان کو ایگزم بینک کے ذریعے رعایتی فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے۔ برآمدی آمدن پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
نئی منڈیاں اور نجی شعبہ
انہوں نے کہا کہ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے مختلف ممالک سے مذاکرات جاری ہیں اور چین کے ساتھ 16 زرعی پروٹوکولز سے پاکستانی برآمدات کے مواقع بڑھے ہیں۔ کراچی میں فوڈ ایگ 2026 زرعی برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
پاکستان سنگل ونڈو سے ایک لاکھ 8 ہزار سے زائد تاجر منسلک ہیں اور تجارتی پالیسی سازی میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے 19 سیکٹورل کونسلز فعال ہیں۔
رانا احسان افضل نے آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، زراعت اور معدنیات میں برآمدات کے وسیع مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتی پیداوار اور مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا ہوگی۔ حکومت اور نجی شعبے کا تعاون برآمدی اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے۔
کانفرنس کی سفارشات کو حکومتی تجارتی اصلاحات میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
اس موقع پر ڈاکٹر فہیم جہانگیر نے کہا کہ پالیسیوں میں عدم تسلسل اور زیادہ تجارتی لاگت اہم معاشی چیلنجز ہیں۔ ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ پاکستان کا معاشی استحکام برآمدات میں مسلسل اضافے سے وابستہ ہے اور معاشی ترقی کے لیے تحقیق پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔
کانفرنس میں بہترین تحقیقی مقالوں اور پوسٹرز پر محققین میں نقد انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔











