گورنر جعفر خان مندوخیل: وویمن یونیورسٹی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمیت جدید مضامین متعارف کرائے جا رہے ہیں

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ چیزوں کی فیوچر ویلیو اور بین الاقوامی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے وویمن یونیورسٹی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، میڈیکل لیب ٹیکنالوجی اور ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائٹری سمیت جدید اور مارکیٹ ڈریون مضامین متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن کا مقصد طالبات کو جدید سائنسی علوم اور ٹیکنالوجیکل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ مقامی سطح کے ساتھ ساتھ قومی اور عالمی روزگار کی مارکیٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ژوب کیمپس سے ہزاروں طالبات کو فائدہ
گورنر مندوخیل نے کہا کہ ضلع ژوب میں وویمن یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام پورے ڈویژن کی ہزاروں طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی باصلاحیت طالبات مالی مشکلات، سفری مسائل اور دیگر سماجی و معاشی رکاوٹوں کے باعث اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں، اور ژوب کیمپس انہیں ان کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم کے قریب لانے اور ان کے تعلیمی خوابوں کو عملی شکل دینے میں مدد دے گا۔
انہوں نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ڈیجیٹل دنیا میں بعض روایتی مضامین کی مارکیٹ ویلیو کم ہو رہی ہے جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی، نیوٹریشن، ڈیٹا سائنسز اور دیگر نئے شعبے انسانی زندگی اور جدید معیشت کی اہم ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔ اس بدلتی صورتحال کے پیش نظر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بھی اپنے تعلیمی پروگرامز کو مستقبل قریب کی ضروریات، ہائیر ایجوکیشن پالیسی اور مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہماری ترجیح صرف اکیڈمک ڈگریاں جاری کرنا نہیں بلکہ ایسی کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرنا ہے جو نئی نسل کو جدید علم، ڈیجیٹل اسکلز اور روزگار کے نئے مواقع سے منسلک کر سکے۔ تعلیمی نصاب اور مارکیٹ کی ضرورت کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان ڈگری کے ساتھ قابلِ روزگار مہارتیں بھی حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس محض ایک نیا مضمون نہیں بلکہ صنعت، تعلیم، صحت، زراعت، فنانس اور گڈ گورننس سمیت تقریباً ہر شعبے میں تبدیلی کا ذریعہ بن رہی ہے، اس لیے سرکاری یونیورسٹیوں کو مستقبل قریب کے ان شعبوں میں افرادی قوت تیار کرنے کے لیے ابھی سے سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ خواتین کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کرنا صرف انفرادی ترقی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی معاشی اور سماجی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ یونیورسٹیوں کو تحقیق، اختراع، ڈیجیٹل مہارتوں، انٹرپرینیورشپ اور صنعت سے روابط پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ طالبات تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکیں۔
یونیورسٹی کی کارکردگی میں تقریباً دوگنا اضافہ
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے گورنر بلوچستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر آفس کی بھرپور معاونت، رہنمائی اور مسلسل سرپرستی کے نتیجے میں یونیورسٹی نہ صرف مختلف انتظامی و مالی بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب ہوئی بلکہ اس کی رینکنگ اور اسکورنگ میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں جدید تعلیمی پروگرامز کے اجراء، تحقیق کے فروغ، تعلیمی معیار میں بہتری اور طالبات کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











