گورنر جعفرخان مندوخیل کی زیر صدارت لسبیلہ یونیورسٹی کا 9واں سینیٹ اجلاس، کارکردگی 85.32 فیصد تک پہنچ گئی

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کی زیر صدارت لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنسز کے 9ویں سینیٹ اجلاس کا انعقاد ہوا، جس میں یونیورسٹی کی نمایاں کامیابیوں، تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں، انتظامی امور اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد حلیمی، صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ظہور احمد بلیدی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، پارلیمانی سیکرٹری زرین مگسی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر الٰہی بخش، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری اور رجسٹرار ڈاکٹر بالاچ بلوچ سمیت سینیٹ کے تمام اراکین نے شرکت کی۔
سرکاری جامعات کا منفی تاثر تبدیل ہوا: گورنر
گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ سب کے لیے باعثِ فخر ہے کہ گزشتہ دو برس کے مختصر عرصے میں بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں نے غیرمعمولی کارکردگی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے صوبے کی سرکاری جامعات کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو تبدیل کر کے ایک قابلِ ستائش اور امید افزا تصویر پیش کی ہے، اور لسبیلہ یونیورسٹی اس مثبت تبدیلی کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ نے اپنی کارکردگی کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ 41 فیصد سے بڑھا کر 85.32 فیصد تک پہنچائی اور ایک سال میں 86 ملین کی بچت کر کے نئی تاریخ رقم کی، جس کے لیے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالمالک ترین اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ وژنری قیادت، میرٹ کی پاسداری، مالیاتی شفافیت اور ادارہ جاتی ڈسپلن سے محدود وسائل میں بھی بڑے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
گورنر نے کہا کہ یونیورسٹی کی 177 ریسرچ پبلیکیشنز اس کے علمی و تحقیقی سفر میں اہم پیش رفت ہیں، جبکہ قیام سے اب تک 5 ہزار گریجویٹس کی تیاری ایک قابلِ فخر قومی خدمت ہے۔ یہی نوجوان مستقبل میں بلوچستان اور پاکستان کی معیشت، سمندری وسائل، ماحولیات، لائیو اسٹاک، آبی شعبے اور دیگر شعبوں کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بلیو اکانومی کا علمی مرکز بننے کی صلاحیت
گورنر بلوچستان نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی کا محلِ وقوع اسے پاکستان کی بلیو اکانومی، سمندری علوم، فشریز، میرین بائیو ڈائیورسٹی، کوسٹل اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے ایک منفرد علمی مرکز بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹی اپنی تعلیمی ترجیحات کو بلوچستان کی زراعت اور آبی وسائل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نوجوانوں کو جدید سائنسی اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی معیشتیں صرف روایتی وسائل پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ علم، تحقیق، ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور افرادی قوت کو ترقی کا بنیادی محرک سمجھتی ہیں۔ بلوچستان کی سرکاری جامعات کو بھی اس گلوبل چینج کا حصہ بننا ہوگا تاکہ نوجوان روزگار کے متلاشی ہی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بن سکیں۔
گورنر مندوخیل نے زور دیا کہ جامعات میں تحقیق کو صرف تحقیقی مقالوں تک محدود رکھنے کے بجائے صنعت، زراعت، فشریز، آبی وسائل، ماحولیات اور لوکل اکانومی کے عملی مسائل کے حل سے جوڑا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی یونیورسٹی کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف رینکنگ نہیں بلکہ کوالٹی ایجوکیشن، سائنٹفک ریسرچ اور معاشرے کو درپیش مسائل کا سائنسی حل پیش کرنا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں یونیورسٹی کی تعلیمی و انتظامی کارکردگی، مالی امور، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا اور اراکین کی تجاویز، سفارشات اور باہمی مشاورت کی روشنی میں متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











