کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کا عالمی یومِ ترقیاتی معلومات پر پیغام

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے عالمی یومِ ترقیاتی معلومات کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بنی نوع انسان نے تاریخ میں تین بڑے انقلابات، زرعی انقلاب، صنعتی انقلاب اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کا سفر طے کیا ہے۔ ان انقلابات نے انسانی زندگی، سماجی ڈھانچے، معیشت اور سیاسی روابط پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
تاہم جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل کر دیا ہے، انسانوں کے درمیان طویل فاصلے سمٹ گئے ہیں اور ہر قسم کی معلومات صرف ایک کلک پر دستیاب ہے۔ گورنر نے کہا کہ صوبے میں 12 سرکاری یونیورسٹیوں، 16 کیمپسز اور 140 سے زائد بوائز اینڈ گرلز کالجز نے بلوچستان بھر کے لوگوں کو پل پل بدلتی دنیا سے جوڑ دیا ہے۔
اس کے علاوہ آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے دنیا بھر کے مناظر، آوازوں، تخلیقی اور تحقیقی علم و معلومات کو انسان کی جیب میں موجود ایک چھوٹے سے موبائل فون تک محدود کر دیا ہے۔ ایک جدید موبائل فون میں دنیا کی بڑی سے بڑی لائبریریوں سے بھی زیادہ کتابیں محفوظ کی جا سکتی ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی نہ صرف اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے بلکہ ترقیاتی ضروریات کو سمجھنے، مسائل کی نشاندہی کرنے اور ان کے موثر حل تلاش کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
عالمی یومِ ترقیاتی معلومات کا مقصد
گورنر بلوچستان نے کہا کہ عالمی یومِ ترقیاتی معلومات منانے کا بنیادی مقصد دنیا کی توجہ اہم معاشی اور سماجی ترقیاتی چیلنجز کی جانب مبذول کرانا اور عوام کو ان مسائل سے آگاہ کرنا ہے جو پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
جدید ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا، رائے عامہ کو متحرک کرنا اور معاشی و سماجی مسائل کے حل میں شہریوں کی بامعنی شرکت یقینی بنانا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل لٹریسی، درست معلومات تک رسائی اور ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی تعاون، علم و تجربات کے تبادلے اور درست معلومات کی بروقت فراہمی ناگزیر ہے۔
نوجوانوں کے لیے مواقع
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور دیگر انٹرنیشنل تنظیمیں بلوچستان کے نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹکس کے ثمرات سے مستفید کرنے میں مدد اور رہنمائی فراہم کریں۔ جدید ٹیکنالوجی کو انسانی فلاح، معاشی برابری اور سماجی انصاف کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے بروئے کار لائیں۔











