کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ کے خلاف کارروائی: دودھ میں 21 فیصد پانی، آکسی ٹوسن کے 12 پیکٹ ضبط، ملک شاپ سیل

کوئٹہ: ملاوٹی دودھ اور دہی کی فروخت کی روک تھام کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی (بی ایف اے) نے کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس اور جتک اسٹاپ پر بی ایف اے کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ اچانک انسپیکشن کرتے ہوئے متعدد ڈیری فارمز اور ملک شاپس کی جانچ پڑتال کی۔
کارروائی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر سریاب کبیر احمد مزاری اور اسپیشل مجسٹریٹ عزت اللہ کے ہمراہ کی گئی۔ بی ایف اے کی فوڈ سیفٹی اور موبائل لیبارٹری ٹیموں نے مجموعی طور پر 8 ڈیری یونٹس، متعدد ملک شاپس اور ملک سپلائرز کا معائنہ کیا۔ دودھ اور دہی میں ملاوٹ سمیت متعدد خلاف ورزیوں پر 4 یونٹس کو جرمانے کیے گئے، ایک ملک شاپ سیل کی گئی، جبکہ ضلعی انتظامیہ کے مطابق ملاوٹ اور دیگر خلاف ورزیوں پر 8 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
دہی میں خشک پاؤڈر، دودھ میں پانی
معائنے کے دوران دو ڈیری فارمز میں غیر صحت بخش صفائی، دودھ کی ہینڈلنگ و اسٹوریج کے معیار پر عملدرآمد نہ ہونے، ضروری دستاویزات کی عدم دستیابی اور ورکرز کے میڈیکل ریکارڈ نہ ہونے پر جرمانے عائد کیے گئے۔ مویشیوں کو آکسی ٹوسن انجیکشن لگانے کا انکشاف بھی ہوا، جس پر آکسی ٹوسن انجیکشن کے 12 پیکٹ موقع پر ضبط کر لیے گئے۔
دو ملک شاپس کے دہی میں خشک پاؤڈر کی ملاوٹ پائی گئی اور ان کے پاس بی ایف اے لائسنس بھی نہیں تھا، جس پر دونوں کو جرمانہ کیا گیا۔ ایک ملک شاپ میں دودھ میں 21 فیصد پانی اور دہی میں اسکمڈ ملک کی ملاوٹ پائی گئی؛ فوڈ سیفٹی خلاف ورزیوں اور لائسنس کے بغیر کاروبار پر اسے سیل کر دیا گیا۔ ٹیموں نے ڈیری فارم مالکان اور دودھ فروشوں کو فوڈ سیفٹی SOPs پر سختی سے عمل کی ہدایت کرتے ہوئے 2 اصلاحی نوٹسز بھی جاری کیے۔
ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان نے کہا کہ عوام کو معیاری، خالص اور محفوظ دودھ اور غذائی اشیا کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ڈیری فارمز اور ملک شاپس میں صفائی، معیاری ہینڈلنگ، لائسنسنگ اور ملاوٹ سے متعلق قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ عوام کی صحت کا تحفظ بی ایف اے کی اولین ترجیح ہے اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے فیلڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











