چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی زیر صدارت بی ٹیوٹا اجلاس: فنی تعلیم کی ڈیجیٹلائزیشن اور نوجوانوں کو روزگار

کوئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت بی ٹیوٹا (B-TEVTA) کے امور سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں ٹیکنیکل و ووکیشنل تعلیم کی بہتری اور نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
منیجنگ ڈائریکٹر بی ٹیوٹا نے صوبائی سطح پر جاری اور آئندہ منصوبوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ بلوچستان میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تیزی سے گامزن ہے۔ اس وژن کے تحت نوجوانوں کی تربیت کا آغاز کیا جا رہا ہے اور تربیتی نصاب کو ملکی اور بین الاقوامی مزدوری مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن (ڈیجیٹل بی ٹیوٹا) اور داخلہ کے نظام کو مرکزی اور شفاف بنانے کے لیے 90 روزہ ترجیحی پلان پر مؤثر عمل درآمد جاری ہے۔
چیف سیکرٹری کی ہدایات
چیف سیکرٹری شکیل قادر خان نے ہدایت کی کہ بی ٹیوٹا کے تحت کام کرنے والے مختلف ٹیکنیکل اداروں کو مرکزی نگرانی اور معیار کے تحت منظم کیا جائے تاکہ وسائل کا اشتراک، سیکھنے کے معیار اور نتائج میں بہتری آئے۔ انہوں نے نجی شعبے کے ساتھ شراکت بڑھانے، انٹرنشپ اور جاب میلوں کے ذریعے تربیت یافتگان کو روزگار سے جوڑنے اور مائیکروفنانسنگ یا چھوٹے کاروباری قرضوں کے راستے آسان کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ان ہنروں پر خصوصی فوکس رکھا جائے گا جن کی طلب مقامی صنعتوں، تعمیرات، زرعی مشینری اور آئی ٹی سیکٹر میں زیادہ ہے۔ اجلاس میں بی ٹیوٹا کے ماتحت اداروں میں اصلاحات، نصاب کی جدید کاری، معیاری اسناد کے نفاذ اور تربیت کے اثرات جانچنے کے لیے مانیٹرنگ و ایوالیوشن میکانزم کو مؤثر بنانے کے فیصلے بھی کیے گئے۔
چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ پروگرام کا نفاذ شفاف، بروقت اور نتائج پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ نوجوان جلد از جلد مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ہنر مند بن کر روزگار حاصل کر سکیں۔
مکمل ڈیجیٹل نظام
اجلاس کو بتایا گیا کہ بی ٹیوٹا ادارے کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی جانب اہم پیش رفت کر رہا ہے۔ HRMS کے تحت تمام منسلک محکموں کے ملازمین اور اسٹیبلشمنٹ کا مصدقہ ریکارڈ ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگا، جبکہ MIS کے ذریعے اداروں، ٹرینیز، ٹریڈز، داخلوں اور کارکردگی سے متعلق تمام معلومات یکجا کی جائیں گی۔
بائیومیٹرک حاضری کے نظام کو ایچ آر اور تنخواہوں کے کنٹرول سے منسلک کر کے شفافیت یقینی بنائی جائے گی، جبکہ ہنر کے ڈیٹا بینک اور جاب پورٹلز کے ذریعے تربیت یافتہ افراد کو لیبر مارکیٹ کے مواقع سے جوڑا جائے گا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











