نوجوان کلاشنکوف چھوڑ کر قلم اٹھائیں، آئندہ ماہ 500 اسکول قائم کرنے کا ہدف: ہدایت الرحمن بلوچ

کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں ایسا عادلانہ نظام چاہتے ہیں جس میں ہر شہری کو حقوق، انصاف اور تعلیم کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ ان کے مطابق قیام پاکستان کے لیے لوگوں نے انصاف اور اسلامی نظام کی امید پر قربانیاں دی تھیں۔
وہ الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام «تعلیم سب کے لیے» تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں الخدمت اور جماعت اسلامی کے زیر کفالت مختلف اداروں میں پڑھنے والے طلبہ، طالبات اور یتیم بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے بچوں، طلبہ اور اساتذہ میں انعامات تقسیم کیے گئے۔
تعلیم کا پیغام
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے بچوں کی منزل پہاڑ نہیں، ناخواندگی، بے روزگاری اور بدامنی نہیں بلکہ تعلیم، ترقی، خوشحالی، امن اور انصاف ہے۔ نوجوان کلاشنکوف اور بے راہ روی چھوڑ کر قلم کتاب اٹھائیں اور ترقی کے سفر میں شامل ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں حقیقی انصاف اور اسلامی اصولوں پر مبنی نظام ہوتا تو کسی نوجوان کو مایوسی کے باعث پہاڑوں کا رخ نہ کرنا پڑتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور بازاروں میں ظلم و ناانصافی کا راستہ روکا جائے اور نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع ملیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بڑے سرمایہ داروں کے باوجود 1350 یتیم بچوں میں سے 1000 کی کفالت پنجاب کے مخیر حضرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبے کے صاحب ثروت افراد سے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں آگے بڑھنے کی اپیل کی۔
ان کے بقول بلوچستان میں جماعت اسلامی غریب عوام کی جماعت ہے اور وہ محض جذباتی تقریروں پر نہیں بلکہ عملی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقابلہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ کون زیادہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے کتوں کی خوراک لندن سے آتی ہے جبکہ بلوچستان کے غریب بچوں کے پاؤں میں جوتے تک نہیں، جو حکمرانوں اور معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
500 اسکولوں کا ہدف
انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ماہ پڑھتا بڑھتا بلوچستان مہم کے تحت 500 اسکول قائم کرنے کا ہدف ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن اس وقت 15 ہزار بچوں اور بچیوں کو تعلیم دے رہی ہے، جبکہ جعفرآباد میں اسپتال اور لسبیلہ میں آغوش سینٹر کی تعمیر سمیت دیگر اضلاع میں بھی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
تقریب سے نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور الحمد یونیورسٹی کے چیئرمین ڈاکٹر شکیل روشن، تعمیر نو ٹرسٹ کے پروفیسر عابد مقصود اور الخدمت فاؤنڈیشن بلوچستان کے صدر عبدالمجید سربازی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ الخدمت معاشرے کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے اور بلوچستان کے مسائل کا حل تعلیم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں اور خواتین پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کو سمجھیں۔
سابق سیکرٹری حکومت بلوچستان عبدالفتح بھنگر نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں۔ حکومت دستیاب وسائل میں تعلیم پر توجہ دے رہی ہے، تاہم فلاحی اداروں، مخیر حضرات اور تمام طبقات کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔
الخدمت کے ایجوکیشن ڈائریکٹر قاضی عبدالرحمن نے بتایا کہ بلوچستان میں الخدمت کے 13 چائلڈ پروٹیکشن سینٹرز کام کر رہے ہیں، جہاں تقریباً 600 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے سات سینٹرز کوئٹہ میں ہیں۔ الخدمت 100 سے زائد طلبہ کو جامعات میں اسکالرشپس بھی دے رہی ہے۔











