نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر وریندر لعل کی صدارت میں ریونیو اجلاس، زرعی انکم ٹیکس، عشر اور آبیانہ کی بروقت وصولی کی ہدایت

نصیرآباد: ڈپٹی کمشنر نصیرآباد وریندر لعل کی زیرِ صدارت ریونیو افسران کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں زرعی انکم ٹیکس، عشر اور آبیانہ کی مد میں سرکاری واجبات کی بروقت وصولی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں زمینداروں پر واجب الادا سرکاری بقایاجات کی وصولی کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ ریونیو افسران کو ہدایت کی گئی کہ سرکاری واجبات کی بروقت اور موثر وصولی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات مزید تیز کیے جائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
وصولی کے اہداف
ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے کہا کہ سرکاری محصولات کی وصولی حکومتی امور کی موثر انجام دہی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، لہٰذا تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن زمینداروں کے ذمے بقایاجات واجب الادا ہیں ان سے وصولی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری بقایاجات کی وصولی میں پہلے کی نسبت بہتری آئی ہے، تاہم اس عمل کو مزید موثر بنانے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ریکارڈ اور نوٹس
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام واجبات کا ریکارڈ مرتب اور اپ ڈیٹ رکھا جائے، بقایاجات کی تفصیلات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور وصولی کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ بھی مرتب کی جائے تاکہ کارکردگی کی موثر نگرانی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ایسے زمینداروں کی الگ فہرستیں تیار کی جائیں جو واجبات کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر یا ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، اور انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق نوٹس جاری کرکے سرکاری واجبات کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری محصولات کی وصولی کے معاملے میں سستی اور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ افسران اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے وصولی کے مقررہ اہداف کو بروقت پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔
ڈپٹی کمشنر وریندر لعل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری واجبات کی وصولی کے نظام کو مزید فعال اور موثر بنایا جائے گا تاکہ حکومتی محصولات کی وصولی میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ ریونیو امور کو بھی منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











