میتھوڈسٹ چرچ کوئٹہ میں بین المذاہب ہم آہنگی مکالمہ، اورنگزیب خان کھچی اور ظہور بلیدی کا خطاب

کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں امن، رواداری، باہمی احترام اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے میتھوڈسٹ چرچ کوئٹہ میں اہم مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب، مکاتب فکر اور معاشرتی طبقات کی شخصیات نے شرکت کی۔
مکالمے کا اہتمام وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ اور بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس کے تعاون سے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) کے خصوصی تعاون سے کیا گیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی، صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی اور ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی سمیت مذہبی رہنما اور سماجی کارکن شریک ہوئے۔
«تنوع ہماری کمزوری نہیں، قومی اثاثہ ہے»
وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں، زبانوں اور روایات کے لوگوں کا خوبصورت گلدستہ ہے جہاں باہمی احترام، برداشت اور رواداری ہماری قومی شناخت اور اجتماعی قوت کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام طبقات ایک دوسرے کے عقائد، ثقافت اور روایات کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ قومی اقدار کو فروغ دیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ثقافتی اور مذہبی تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ اہم قومی اثاثہ ہے، اور مکالمے و باہمی رابطے سے غلط فہمیوں کا خاتمہ اور بھائی چارے کی فضا مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور رواداری کے فروغ کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان اپنی منفرد ثقافت، روایات اور مختلف برادریوں کے باہمی میل جول کے حوالے سے ایک وسیع اور متنوع معاشرہ ہے، جہاں امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رواداری اور باہمی احترام کے فروغ سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
شرکاء نے بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے مسلسل مکالمے، باہمی رابطے اور مشترکہ سماجی سرگرمیوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور امن، برداشت، احترام اور بھائی چارے کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











