سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے گوادر کا نواں اجلاس: پاک چین فرینڈشپ ہسپتال 300 بستروں تک بڑھانے کی تجویز زیرِ غور

اسلام آباد: پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر کی ترقی سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ (JWG) کا نواں اجلاس بیجنگ اور اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں گوادر میں جاری، مکمل اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، ترجیحات اور آئندہ لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات ڈاکٹر محمد طاہر نور اور چین کی جانب سے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (NDRC) کے ڈائریکٹر جنرل مسٹر پان جیانگ نے کی۔ متعلقہ وفاقی وزارتوں، اداروں اور چینی حکام و ماہرین نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان اور ڈائریکٹر جنرل آپریشنز گوادر پورٹ اتھارٹی داؤد کلمتی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کے کمرشل ونگ کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
پاکستانی اور چینی حکام نے اپنے اپنے شعبوں اور منصوبوں پر بریفنگ دی اور گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل، زیرِ تعمیر اور مجوزہ منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ (PCTVI)، جی ڈی اے پاک چین فرینڈشپ ہسپتال اور 1.2 ملین گیلن یومیہ (MGD) سمندری پانی کے ڈیسالینیشن پلانٹ کی پیش رفت اور افادیت بھی زیرِ غور آئی۔
چینی حکام کا اطمینان، تعاون جاری رکھنے کا عزم
چینی حکام نے گوادر میں مکمل کیے گئے سماجی و معاشی منصوبوں کی کارکردگی اور ان سے مقامی آبادی کو براہِ راست ملنے والے فوائد پر اطمینان کا اظہار کیا اور خوشی ظاہر کی کہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، فرینڈشپ ہسپتال اور 1.2 MGD ڈیسالینیشن پلانٹ سمیت چین کے تعاون سے مکمل منصوبے شہریوں کو عملی سہولیات دے رہے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ گوادر کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے چین کا تعاون جاری رہے گا اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے منصوبوں پر بھی غور ہوتا رہے گا۔
جی ڈی اے کی نئی تجاویز
اجلاس میں جی ڈی اے کی مستقبل کی تجاویز پر غور کیا گیا، جن میں پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کی توسیع اور اس کی استعداد ایک سو سے 300 بستروں تک بڑھانا، میڈیکل اور نرسنگ کالج کا قیام اور صحت و تعلیم کے شعبوں سے متعلق دیگر تجاویز شامل تھیں۔ ویسٹ بے/پدی زر میں جدید فش لینڈنگ جیٹی، فش ہاربر اور بوٹ میکنگ انڈسٹری کے قیام کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں، جن کا مقصد ماہی گیری کو جدید سہولیات دینا، ماہی گیروں کے لیے روزگار و کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور مقامی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ گوادر سمارٹ انوائرنمنٹ سینیٹیشن سسٹم اینڈ لینڈ فل پروجیکٹ کی تجویز بھی شامل کی گئی۔
اجلاس میں گوادر پورٹ اور فری زون، ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز-II، بریک واٹر کی تعمیر، برتھنگ ایریاز اور چینلز کی ڈریجنگ، بندرگاہ کی ملکی اقتصادی مراکز سے رابطہ کاری، اور ایم ایٹ موٹروے و منرل کوریڈور سے گوادر تک رابطہ سڑکوں سمیت متعدد منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔
گوادر پورٹ اتھارٹی نے بندرگاہ کی موجودہ آپریشنل صورتحال، گوادر فری زون فیز-I اور فیز-II اور مستقبل کی ضروریات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں گوادر پورٹ کے ذریعے کارگو اور امریکہ ایران جنگ کے تناظر میں ٹرانزٹ تجارت بڑھانے، فری زون میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔
اس امر پر زور دیا گیا کہ سی پیک کے تحت گوادر کی ترقی کو صرف بندرگاہ اور تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے صحت، تعلیم، پانی، روزگار، شہری سہولیات اور مقامی معاشی سرگرمیوں سے مربوط کیا جائے تاکہ عوام کو براہِ راست ثمرات ملیں۔ مجوزہ نئے منصوبوں پر مزید غور اور متعلقہ فورمز سے ان کی باقاعدہ منظوری کے لیے اقدامات پر اتفاق ہوا، اور عزم ظاہر کیا گیا کہ باہمی مشاورت سے گوادر کو جدید بندرگاہی، شہری اور معاشی مرکز بنانے کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











