سندھ ہائیکورٹ نے ماہ رنگ بلوچ کی بریت کے خلاف حکومتی اپیل مسترد کر دی

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے پیر کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کی بریت کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس فیصلے کے بعد انسدادِ دہشت گردی عدالت کا بریت کا حکم برقرار رہے گا۔
مقدمہ 11 اکتوبر 2024 کو کراچی میں شہری اسد علی کی مدعیت میں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت درج کیا گیا تھا۔ مدعی کا مؤقف تھا کہ ماہ رنگ بلوچ ایسی دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کار ہیں جو بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ورغلا رہی ہیں اور جلوسوں و ریلیوں کی آڑ میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا بندوبست کرتی ہیں۔
ایک سال بعد انسدادِ دہشت گردی عدالت نے استغاثہ کے ٹھوس شواہد پیش نہ کر سکنے پر ماہ رنگ بلوچ کو بری کر دیا۔ دسمبر 2025 میں سندھ کے قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل نے اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ جب مقدمہ ایک نجی شہری کی مدعیت میں درج ہوا تھا تو استغاثہ بریت کے خلاف خود اپیل کیسے دائر کر سکتا ہے۔
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بریت کی درخواست منظور کرتے وقت اہم حقائق نظر انداز کیے۔ ان کے بقول ماہ رنگ بلوچ کے خلاف واضح شواہد موجود ہیں اور استغاثہ کو ٹرائل میں اپنے شواہد پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فردِ جرم عائد ہونے سے پہلے بریت مناسب نہیں تھی۔











