سندھ ہائیکورٹ نے فلم گھوسٹ اسکول کی مشروط نمائش کی اجازت دے دی، سنسر بورڈ کو 10 روز میں فیصلے کا حکم

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے فلم گھوسٹ اسکول کی عوامی نمائش کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے سندھ سنسر بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ فلم سازوں کی جانب سے متنازع جملہ حذف کیے جانے کے بعد 10 روز میں فلم کی سرٹیفکیشن پر دوبارہ غور کیا جائے۔
جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جے جے سیماب گل و دیگر کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر سندھ سنسر بورڈ دیگر صوبوں کے سنسر بورڈز سے مختلف فیصلہ کرنا چاہتا تھا تو اسے واضح اور معقول قانونی وجوہات پیش کرنا ضروری تھا، تاہم بورڈ ایسا کرنے میں ناکام رہا۔
وفاقی اور پنجاب سنسر بورڈز پہلے ہی منظوری دے چکے تھے
عدالت کے مطابق وفاقی اور پنجاب سنسر بورڈز فلم کو پہلے ہی نمائش کے لیے منظور کر چکے تھے، جبکہ سندھ سنسر بورڈ نے اس کی منظوری روک دی تھی۔
عدالت اس سے قبل بھی بورڈ کو قانون کے مطابق ازسرنو فیصلہ کرنے اور فلم سازوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے کی ہدایت کر چکی تھی۔
عدالت نے حکم دیا کہ فلم ساز اعتراض نمبر 7 میں شامل مخصوص جملہ حذف کریں، جس کے بعد سندھ سنسر بورڈ 10 روز کے اندر سرٹیفکیشن کا معاملہ نمٹائے۔
بورڈ فلم کو عوامی نمائش کا سرٹیفکیٹ جاری کر سکتا ہے۔ تاہم مزید تحفظات کی صورت میں اسے فلم سازوں کو ذاتی سماعت کا موقع دے کر قانون کے مطابق نئی درجہ بندی یا ضروری ہدایات جاری کرنا ہوں گی۔
عدالت نے واضح کیا کہ سندھ سنسر بورڈ اپنے سابقہ اعتراضات سے آگے بڑھ کر فلم پر کوئی نیا اعتراض عائد نہیں کر سکتا۔











