زیارت: غیر حاضر اساتذہ کو شوکاز نوٹس اور تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ، اسکولوں کی نگرانی کیلئے کمیٹیاں

زیارت: ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اہم اجلاس میں غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی اور اسکولوں کی نگرانی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی امور، سرکاری اسکولوں کی کارکردگی، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے تعلیمی معیار اور تعلیمی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ایف سی ونگ 155 کے کرنل ذیشان، اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لطیف اللہ غرشین، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن عبدالمالک تاج، اکاؤنٹس آفیسر عبدالغنی پانیزئی، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج زیارت پروفیسر نقیب اللہ کاکڑ، ڈی او فیمیل میمونہ فہیم، اے ڈی او فیمیل بی بی شاہینہ، ڈسٹرکٹ سپروائزر بی ای ایف فیض اللہ خلجی، جے ٹی اے آئینی کے صدر فیروز خان اور آر ٹی ایس ایم بدرالدین سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع کی دونوں تحصیلوں میں تعلیمی اداروں کی مجموعی صورتحال، تدریسی و انتظامی امور اور اسکولوں میں دستیاب سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔
اہم فیصلے
فیصلہ کیا گیا کہ دونوں تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو سرکاری اسکولوں کے باقاعدہ دورے کرکے تعلیمی و انتظامی صورتحال اور اساتذہ کی حاضری کا موقع پر جائزہ لیں گی اور رپورٹ پیش کریں گی۔
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مسلسل غیر حاضر اساتذہ کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی ہوگی۔ انہیں شوکاز نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا جائے گا اور غیر حاضری کی وجوہات معلوم کرنے کے بعد ضابطے کے مطابق تنخواہوں سے کٹوتی سمیت دیگر محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے کہا کہ سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی بروقت حاضری اور ذمہ دارانہ کارکردگی تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت، غیر حاضری اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے متعلق کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











