جیکب آباد سم نالہ تنازع: بلوچستان کی این او سی کے بغیر تعمیراتی کام شروع نہیں ہوگا، سندھ حکام کی یقین دہانی

جیکب آباد: متنازعہ جیکب آباد سم نالے کے معاملے پر بلوچستان کے سخت تحفظات کے بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین اور سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے سندھ حکام سے ملاقات کر کے متنازعہ سم نالے کا مشترکہ معائنہ کیا۔
2010ء جیسے سیلاب کا خدشہ
بلوچستان کے وفد نے ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی کو دوٹوک انداز میں آگاہ کیا کہ مین حیردین ڈرینیج سسٹم جیکب آباد کے اضافی پانی کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور اگر سم نالے کا پانی اس میں شامل کیا گیا تو صحبت پور، جعفرآباد اور استا محمد جیسے اضلاع کو 2010ء کے سپر فلڈ جیسی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے واضح کیا کہ سندھ حکومت بہتر اور محفوظ حل تلاش کرنے کے لیے بلوچستان سے مشاورت کرے اور باقاعدہ این او سی حاصل کرے تاکہ سرحدی اضلاع کے عوام کے خدشات دور ہوں۔
ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان حکومت کی این او سی کے بغیر متنازعہ سم نالے پر کسی قسم کا تعمیراتی کام دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا۔
اجلاس اور معائنے میں ایس ایس پی صحبت پور خلیل احمد، ایگزیکٹو انجینئر جیکب آباد معظم علی، اسسٹنٹ کمشنر جعفرآباد دھیرج کالرہ اور سب ڈویژنل آفیسر عابد علی کھوسہ بھی موجود تھے۔


تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











