رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 22° / 11°فجر 05:21ظہر 12:16عصر 16:12مغرب 17:49عشا 19:10
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
حارث رؤف کا بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز سے معاہدہصائم ایوب سہ ملکی ون ڈے اسکواڈ سے ریلیز، صاحبزادہ فرحان اسکواڈ میں شامللام فیشن ویک کا تیسرا روز، مشرقی و مغربی ملبوسات کی نمائششیرباز مری نے قازقستان میں نومیڈ ایم ایم اے چیمپئن شپ کا گولڈ میڈل جیت لیاجی ایچ کیو حملہ کیس: طاہر صادق کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم برقرار، وفاق کی درخواست مستردتہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقاتیومِ سیاہ کشمیر: صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کا مطالبہتہران میں مکہ دفاعی معاہدے کے وفد کی ایرانی قیادت سے ملاقات، علاقائی سلامتی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاقڈپٹی کمشنر قلات عائشہ زہری کا سکول کوہنگ کا دورہ، تعلیمی معیار کا جائزہموسیٰ خیل میں زیتون کی کاشت کے لیے زمینداروں کو محکمہ زراعت کی بریفنگژوب میں صوبائی محتسب کی ہدایت پر کھلی کچہری، شہریوں کی شکایات سنی گئیںکوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کا انسداد پولیو پر پیغام، ہر بچے کو حفاظتی قطرے پلانے پر زور

بلوچستان میں ایف ڈبلیو او کی کارکردگی ناقص رہی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

بلوچستان میں ایف ڈبلیو او کی کارکردگی ناقص رہی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
فائل فوٹو: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی — تصویر: بشکریہ www.radio.gov.pk

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔ ان کے مطابق ایف ڈبلیو او کی بلوچستان میں کارکردگی ناقص رہی ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نقطہ اعتراض پر رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ این ایچ اے بلوچستان میں کام نہیں کر رہا، اور این ایچ اے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر بلوچستان نہیں آتے۔

ڈاکٹر مالک بلوچ کے نقطہ اعتراض پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ ایف ڈبلیو او ایک منظم ادارہ ہے جو کوالٹی کی بات کرتا ہے۔ ہم نے انہیں بغیر ٹینڈر کے پروجیکٹس دیے، لیکن ان کے بقول ان کے اپنے علاقے میں ناقص سڑک بنائی گئی، جسے بعد میں حکومت کو خود درست کرنا پڑا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایف ڈبلیو او پروجیکٹس لے کر پیٹی ٹھیکیداروں کو دے دیتا ہے اور وہ پیٹی ٹھیکیدار کام نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ایوان متفق ہے کہ ایف ڈبلیو او کو دیے گئے پروجیکٹس میں وہ بری طرح ناکام ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبے عام بلوچستانی کے لیے ہیں۔ ان منصوبوں پر حملے کرنے، پل گرانے اور سڑکیں تباہ کرنے والے بلوچوں کے خیر خواہ نہیں ہیں، وہ صوبے کو لاحاصل جنگ میں ڈال رہے ہیں۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔