رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° صاف 22° / 11°فجر 05:22ظہر 12:16عصر 16:11مغرب 17:48عشا 19:09
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
اسلام آباد میں پاک چین انفارمیشن کوریڈور کا آغاز، میڈیا اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کا اعلاناسرائیلی انتخابات میں تعطل، نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں کا حکومت بنانے کا دعویٰامریکا کی خلیجی ممالک کو مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید مہم کے امکان سے خبردار رہنے کی ہدایتپاکستان کا سلامتی کونسل میں ویٹو کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیوں کا مطالبہایس کے ہائینکس کا سہ ماہی منافع سات گنا بڑھنے کے بعد 75 ارب ڈالر شیئر ہولڈرز کو لوٹانے کا اعلانجسٹس عائشہ ملک نے ججوں کے لیے بینچ بک کی تقریبِ رونمائی میں اس تصور کو مسترد کر دیا کہ خواتین زیادتی کو “دعوت” دیتی ہیںڈی ایٹ کا 2030 تک رکن ممالک کی باہمی تجارت 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف ہے، وفاقی وزیر تجارت کا دوحہ میں بیاناقوام متحدہ کے اداروں کی یوکرین پر حملوں، ایران میں رسائی کے فقدان اور کینیا میں ایتھوپیائی پناہ گزینوں پر انتباہات“دی پٹ” کے اسٹار نوآ وائلی 2026 کے لیے پیپل کے “سیکسی ترین مرد” قرارفن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں کی یوکرین جنگ پر پوٹن سے 90 منٹ طویل نادر ٹیلیفونک گفتگوآئی ایم ایف شرائط پر قانون سازی: حکومت اور پیپلز پارٹی میں اتفاقپیٹرول 1.54 روپے اور ڈیزل 2.16 روپے فی لیٹر مہنگا، نئی قیمتیں 27 اکتوبر سے نافذ

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کا انسداد پولیو پر پیغام، ہر بچے کو حفاظتی قطرے پلانے پر زور

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بلوچستان میں نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہ ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔

تاہم اس کامیابی کو برقرار رکھنے اور صوبے کو پولیو سے مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے مسلسل نگرانی، مؤثر حکمت عملی اور ویکسینیشن مہمات کا تسلسل ناگزیر ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیو ایک ایسی بیماری ہے جس سے بچاؤ ممکن ہے، لیکن اس کے نتیجے میں بچوں کو عمر بھر کی معذوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنا حکومت، والدین اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے حفاظتی قطرے پلانے کی ہر مہم میں والدین کا بھرپور تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پولیو کے نئے کیسز سامنے نہ آنا متعلقہ اداروں اور پولیو ورکرز کی مسلسل کوششوں کا اہم نتیجہ ہے، تاہم اس پیش رفت کو پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔

وائرس کی نگرانی پر زور

وائرس کی موجودگی کا بروقت پتا لگانے، ماحولیاتی نمونوں کی جانچ اور ہائی رسک علاقوں کی کڑی نگرانی کے ذریعے ہی بچوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیو کے خلاف کامیاب حکمت عملی کے لیے سخت نگرانی، مہمات کے معیار کو یقینی بنانا، ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور ہر سطح پر جوابدہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ پولیو ویکسینیشن مہمات کے دوران کوئی بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے اور وائرس کی کسی بھی ممکنہ موجودگی پر فوری کارروائی کی جائے۔

پولیو ورکرز اور والدین سے اپیل

انہوں نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کارکن دشوار گزار علاقوں اور مشکل حالات میں بچوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی حفاظت، سہولت اور مؤثر معاونت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر اپنے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور حفاظتی ٹیکہ جات کا معمول کا شیڈول بھی مکمل کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ علمائے کرام، قبائلی عمائدین، اساتذہ، سماجی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ کو بھی عوام میں آگاہی پیدا کرنے اور پولیو ویکسین کے حوالے سے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ہر بچے کو محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔