رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 19° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

آرچر روڈ کوئٹہ پر متروکہ اوقاف اراضی پر پلازہ: کمشنر ذیشان لاشاری نے مکمل رپورٹ طلب کر لی

آرچر روڈ کوئٹہ پر متروکہ اوقاف اراضی پر پلازہ: کمشنر ذیشان لاشاری نے مکمل رپورٹ طلب کر لی
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

کوئٹہ: کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت آرچر روڈ پر متروکہ اوقاف املاک بورڈ کی اراضی پر زیر تعمیر کمرشل پلازہ کے معاملے پر اہم اجلاس ہوا، جس میں منصوبے کے قانونی تقاضوں، تعمیراتی اجازت ناموں اور سکھ برادری کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی، سکھ برادری کے نمائندے اور متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے افسران شریک ہوئے۔

ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے بتایا کہ منصوبے کے کنٹریکٹر نے کارپوریشن سے این او سی، منظور شدہ نقشہ اور دیگر ضروری قانونی دستاویزات مکمل کیے بغیر ڈبل بیسمنٹ کی تعمیر شروع کر دی تھی، جس پر کارپوریشن نے فوری کارروائی کر کے غیر قانونی تعمیراتی کام رکوا دیا۔ سڑک کو کلیئر رکھنے اور عوام کی حفاظت کے لیے پروٹیکشن وال بھی لگائی گئی ہے، اور منصوبے میں میونسپل قوانین اور دیگر قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔

متروکہ اوقاف کا مؤقف اور سکھ برادری کے تحفظات

متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے حکام نے بتایا کہ اس اراضی پر کوئی گوردوارہ موجود نہیں تھا بلکہ یہ بورڈ کی ملکیتی اراضی ہے جو ماضی میں ایک اسکول کو کرائے پر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق کمرشل استعمال سے قبل قانونی کارروائی، ٹینڈرنگ اور دیگر ضابطے مکمل کیے گئے، جس کے بعد پلازہ کی تعمیر کا ٹینڈر جاری ہوا۔ نقشہ منظور نہ کرانے اور این او سی نہ لینے کی ذمہ داری کنٹریکٹر پر عائد ہوتی ہے، جس کے خلاف ٹینڈر کی شرائط کے مطابق کارروائی بھی کی جائے گی۔

سکھ برادری کے نمائندوں نے پلازہ کی تعمیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں برادری کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کی وجہ سے ان کے تحفظات اب تک برقرار ہیں۔

کمشنر ذیشان لاشاری نے متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے افسران کو ہدایت کی کہ آرچر روڈ پلازہ منصوبے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات، ٹینڈر کی تفصیلات، کنٹریکٹر کے ساتھ معاہدے کی نقول اور آئندہ لائحہ عمل پر مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے منصوبے کے قانونی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینے اور سکھ برادری کے تحفظات باہمی مشاورت سے شفاف انداز میں دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان