حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ، ایران کی نئے حملے پر انتباہ

ریاض: بی بی سی اردو کے مطابق یمن کے حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو اس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایرانی حکومت کی مدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ یہ بیان ایک مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک پر نئی پابندیوں کے بعد آیا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے آئل ٹینکرز کے ’شیڈو فلیٹ‘ کی معاونت کرتا ہے۔
قطر کے وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سعودی اور کویتی وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفون پر خطے کی صورتحال پر بات کی۔ قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے اقدامات زیرِ بحث آئے، اور قطر نے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ویانا میں ایرانی وفد نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی پر تنقید کی کہ وہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں پر خاموش ہیں اور صرف 60 فیصد افزودہ یورینیم پر تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ وفد کے مطابق این پی ٹی میں افزودگی کی کوئی حد مقرر نہیں۔
ریڈ کراس کے مطابق تعز کے ہسپتالوں کے لیے چار ٹرکوں پر مشتمل طبی سامان روانہ کیا گیا ہے۔ ترجمان ہاشم عثمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ 23 ستمبر کے بعد یہ پہلی امدادی کھیپ ہے۔ حوثی فورسز ایک ماہ سے زائد عرصے سے شہر کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔











