جام کمال خان سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری اور آم و کھجور کی برآمد پر گفتگو

اسلام آباد: امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال ہوا۔
یہ ملاقات منگل کو ہوئی۔ اس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان اور سیکرٹری تجارت جواد پال بھی موجود تھے۔
جاری اعلامیے کے مطابق وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
آم اور کھجور کی امریکی منڈی تک رسائی
ملاقات میں پاکستانی آم اور کھجور کی امریکی منڈی تک رسائی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
سیکرٹری تجارت نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارتی معاہدے پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ تجارتی معاہدے کی چند تکنیکی شقوں پر امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر سے مزید بات چیت درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی آم کی برآمدات کے لیے امریکی معائنہ ٹیموں کے دوروں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کی کھجور کو امریکی منڈی تک رسائی ملنے سے کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کو فائدہ ہوگا۔
امریکی وفد نے پاکستانی زرعی مصنوعات کو منڈی تک رسائی دینے کے حوالے سے متعلقہ حکام سے رابطے کی یقین دہانی کرائی۔ امریکا سے کپاس اور سویابین کی درآمدات بڑھانے اور تجارتی مالی معاونت کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
زراعت، معدنیات اور سرمایہ کاری کی دعوت
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، فوڈ پراسیسنگ اور کولڈ چین کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زرعی اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
انہوں نے امریکی کاروباری اداروں سے کہا کہ وہ 23 سے 26 نومبر تک کراچی میں ہونے والی فوڈ نمائش 2026 میں شرکت کریں۔
وزیر تجارت نے کہا کہ بلوچستان میں کھجور، زیتون کے تیل اور دیگر زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔
ملاقات میں معدنیات، کان کنی، تکنیکی تعاون اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ امریکی وفد نے پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔
فریقین نے تجارتی مذاکرات آگے بڑھانے اور ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔











